متفرق خبریں

خلیل جبران کے یوم پیدائش پر نظم

جنوری 7, 2020

خلیل جبران کے یوم پیدائش پر نظم

لبنان میں پیدا ہو کر امریکہ میں تھیٹر، آرٹ اور ادب میں نام بنانے والے فلاسفر خلیل جبران جنوری 1883 میں بشاری کے قصبے میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں The Prophet اور Broken Wings مشہور ہیں۔

خلیل جبران کی قوموں کے بارے میں لکھی گئی ایک نظم عالمگیر شہرت رکھتی ہے۔ یہ نظم پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق وزیراعظم گیلانی کے خلاف فیصلے میں جسٹس آصف کھوسہ نے شامل کی تھی۔

خلیل جبران کے یومِ پیداٸش پر خلیل جبران کی نظم” Pity The Nation ” جس کا اردو ترجمہ جناب فیض احمد فیض نے کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:

قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں
مگر دل یقیں سے خالی ہیں

قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ایسے کپڑے پہنتی ہے
جس کے لیے کپاس
اُن کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی

اورقابلِ رحم ہے وہ قوم
جو باتیں بنانے والے کو
اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے
اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فاتح کو
اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی
ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے
مگر عالم بیداری میں
مفاد پرستی کو اپنا شعار بنا لیتی ہے

قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو جنازوں کے جلوس کے سوا
کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی
اور ماضی کی یادوں کے سوا
اس کے پاس فخرکرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا

وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی
جب تک اس کی گردن
عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے نام نہاد سیاستدان
لومڑیوں کی طرح مکّار اور دھوکے باز ہوں
اور جس کے دانشور
محض شعبدہ باز اور مداری ہوں

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو اپنے نئے حکمران کو
ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے
اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوں
تو ان پر آوازیں کسنے لگتی ہے

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے اہلِ علم و دانش
وقت کی گردش میں
گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں

اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہو اور جس کا ہر طبقہ
اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے