پاکستان24 متفرق خبریں

’ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘

جنوری 7, 2020

’ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون میں ترمیم پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہو گئی ہے اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری پر جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور سابق فاٹا ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اسمبلی آمد پر اراکین نے وزیراعظم سے ان کی نشست پر آکر مصافحہ کیا اور اس دوران مختلف امور پر مختصر گفتگو بھی کی گئی۔

اجلاس کی کارروائی شروع ہونے پر چیئرمین قائمہ کمیٹی دفاع امجد علی خان نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی رپورٹ پیش کی۔

وزیر دفاع پرویز خٹک کی درخواست پر پیپلزپارٹی نے اپنی سفارشات واپس لے لیں۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاک آرمی، ائیرفورس اور بحریہ کے ایکٹس میں ترمیم کے بل پیش کیے جس کے بعد تینوں بلوں کی شق وار منظوری لی گئی۔

اسپیکر کی جانب سے شق وار ووٹنگ کے بعد ایوان نے بلوں کو منظورکر لیا۔

پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں ن لیگ کے تمام ارکان ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

پارٹی اجلاس میں بعض ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم کہا کہ وہ پارٹی فیصلے کے تحت ووٹ دیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے