متفرق خبریں

تہران میں یوکرین کا طیارہ کیسے گرا؟

جنوری 10, 2020

تہران میں یوکرین کا طیارہ کیسے گرا؟

ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب گرنے والا یوکرینی مسافر بردار طیارہ کیسے تباہ ہوا، عالمی سطح پر نیی بحث چھڑ گئی ہے۔

امریکی جریدے نیوز ویک نے اپنے تازہ شمارے میں پینٹاگون کے ایک اعلی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ تہران کے قریب تباہ ہونے والے یوکراین کے مسافر بردار طیارے کو ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا تھا تاہم یہ حادثہ اتفاقی تھا۔

امریکی جریدے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہوے اسے ممکنہ طور پر غلطی سے تعبیر کیا تھا جبکہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یوکرینی طیارے کو ایرانی میزائل نے غلطی سے نشانہ بنایا ہے۔

ادھر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی ایسی اطلاعات ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ بوینگ737 غیرارادی طور پر ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزایل کا نشانہ بنا ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے ان تمام مفروضوں کو بے بنیاد قراردیتے ہوے مسترد کردیا ہے۔

ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق انہوں نے جاے حادثہ کی مکمل چھان بین کی ہے تاہم انہیں ایسے کوی شواہد نہیں ملے جو ان مفروضوں کی تائید کرتے ہوں ۔

ایرانی وزارت خارجہ نے یوکرین کی حکومت اور بوینگ کمپنی کو اس حوالے سے تحقیقات میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے اپنے ملکی قوانین کے تحت تحقیقات کا اغاز کردیا ہے۔

ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور فرانس کو بھی طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے کا بلیک باکس حکومت کی تحویل میں ہے جسے یوکراین کے ماہرین کی موجودگی میں کھولا جاے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے میں فنی خرابی کے سبب اگ بھڑک اٹھی تھی جو اس کی تباہی کی وجہ بنی ۔ اس حوالے سے وہ تمام حقایق میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر حسن روحانی اور ان کے ہم منصب یوکراینی صدر نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے اور اسے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یوکرین کی وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی، میزائل کانشانہ بننے اور فنی خرابی سمیت کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے بدھ کی صبح تہران ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرینی مسافر بردار طیارہ پرواز کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں سوار تمام 176 مسافر ہلاک ہوگے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے 82 کا تعلق ایران سے جبکہ 63 کینیڈا کی شہریت رکھتے تھے۔

گزشتہ روز یوکراین کے ہوابازی کے ماہرین پر مشتمل 50 رکنی ٹیم تہران پہنچ چکی ہے جہاں وہ طیارہ حادثہ کی تمام پہلووں سے تحقیقات کرے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے