پاکستان24 متفرق خبریں

عدالتی حکم پر بھی کرنل انعام کو پیش نہ کیا

جنوری 13, 2020

عدالتی حکم پر بھی کرنل انعام کو پیش نہ کیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تاہم وزارت دفاع اور حکومت نے عمل نہ کیا اور مزید مہلت طلب کی جس پر منگل تک موقع دیا گیا۔

پیر کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی عدالت بینچ نے وزارت دفاع اور حکومت کی ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر حکم جاری کیا کہ وفاقی حکومت کرنل انعام کی تحویل پر تحریری جواب دے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس مقدمے کو چیمبر میں کیوں سنا جائے۔

جہانزیب عباسی

قبل ازیں سماعت کے آغاز پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کی طرف سے پیش کردہ لفافہ بند جواب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ چیزوں کو ڈرامائی رنگ دینے کی کوشش نہ کریں۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو کرنل انعام رحیم کو عدالت پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ حکومت کی کرنل انعام رحیم کی رہائی کے خلاف درخواست پر سماعت ان کیمرہ کی استدعا مسترد کی۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا نیشنل سکیورٹی کا ایشو ہے، مقدمے کی سماعت ان کیمرہ کی جائے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا مختصر فیصلہ آیا ہے، لگتا ہے ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، تفصیلی فیصلہ آنے دیں.

اٹارنی جنرل نے کہا عدالت انعام رحیم کی رہائی کا مختصر فیصلہ معطل کر دے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ عدالت کے مختصر فیصلے پر عملدرآمد کریں۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت اور اٹارنی جنرل کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا. اٹارنی جنرل نےسر بمہر لفافے میں انعام رحیم کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کی تو جسٹس مشیر عالم نے رپورٹ کا جائزہ لے کر کہا اس رپورٹ میں جو لکھا ہے وہ سب شائع ہوچکا ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ چیزوں کو ڈرامائی رنگ دینے کی ضرورت نہیں. عدالت نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کی۔

وقفے کے بعد اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکم پر عمل نہیں کیا جا سکا اور استدعا ہے کہ اس مقدمے کو کل چیمبر میں سنا جائے اور عدالت کرنل ریٹائرڈ انعام کو پیش کرنے کا اپنے حکم کا دوبارہ جائزہ لے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن پہلے وہ مواد دکھایا جائے جس کی بنیاد پر مقدمہ چیمبر میں سنا جانا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ پہلے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کیس میں کون سا قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قلب حسن نے عدالت میں روسٹرم پر آ کر کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ قومی سلامتی کا کیا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام نے آرمی چیف مدت توسیع کیس میں عدالت کو آرمی رولز کی کاپی فراہم کی تھی۔

قلب حسن ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انعام الرحیم وکیل ہیں اور ان کی ابھی تک اپنے اہل خانہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔

تفصیلات ویڈیو رپورٹ میں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے