کرنل انعام کی رہائی کا حکم معطل
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی رہائی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں داخل کردہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
جہانزیب عباسی
ہائیکورٹ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو رہا کرنے کا حکم دیدیا تھا۔
وفاقی حکومت نے رہائی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کو کرنل انعام کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا اور اٹارنی جنرل نے عدالت سے مقدمہ ان کیمرا سننے کی استدعا کی۔
منگل کو سپریم کورٹ میں انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
انعام الرحیم کی رہائی کا لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کا فیصلہ معطل کر کے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے بتایا کہ کرنل ر انعام الرحیم سے حساس نوعیت کی انفارمیشن اور مواد برآمد ہوا ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے کرنل انعام الرحیم کی گرفتاری پر ابتدائی رپورٹ سربمہر لفافے میں عدالت میں پیش کی گئی۔
جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کیا آپ نے زیرحراست شخص کوبتایا ہے کہ ان پر کون کون سے الزامات ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم کو بتا دیا ہے کہ آپ پر کیا الزامات ہیں، انعام الرحیم سے لیپ ٹاپ برآمدہوا ہے جس سے نیوکلیئر اور آئی ایس آئی سے متعلق حساس معلومات ملی ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تحقیقات کیلئے آپ کو کتنا وقت درکار ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انعام الرحیم اکیلے نہیں ان کے ساتھ اور بھی لوگ ہیں۔ کچھ لوگوں کو حراست میں لیاجاچکا ہے اورکچھ کوحراست میں لینا باقی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آپ کا کہنے کا مطلب ہے کہ ان کے پاس جو معلومات ہیں جو انہوں نے دشمن سے شئیر کیں، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ کرنل ر انعام الرحیم ایک جاسوس ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی کرنل ر انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں، کرنل ر انعام الرحیم کے خلاف ابھی تحقیقات چل رہی ہیں، ان کے پیچھے پورا ایک نیٹ ورک ہے جس میں متعدد لوگوں کی گرفتاریاں ہونی ہیں۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں کورٹ مارشل سے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحقیقات مکمل ہوں گی تو کرنل ر انعام کے پاس تمام حقوق ہوں گے۔
عدالت نے ہائیکورٹ میں داخل کردہ تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔

