پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل دائر
پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اپنے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
پرویز مشرف نے اپیل میں وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے اور خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
جمعرات کو ان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا ٹرائل مکمل کرنے میں آئین کی 6 مرتبہ خلاف ورزی کی۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا قتل نہ ہو اسی لیے مقررہ قانونی مدت میں اپیل دائر کی، خصوصی عدالت کے 17 دسمبر کے فیصلے سے انصاف کا قتل ہوا۔
پرویز مشرف کی اپیل 65 صفحات پر مشتمل اپیل وکیل سلمان صفدر نے تیار کی ہے۔ اپیل کے اہم نکات یہ ہیں:
فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔
خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیرآئینی تھی۔
غداری کیس چلانے کی کابینہ سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔
خصوصی عدالت نے بیان ریکارڈ کرانے کا موقع نہیں دیا۔
خصوصی عدالت میں جو پراسیکیوشن ہوئی وہ سلیکٹیو تھی۔
ایمرجنسی کی اعانت اور سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ بنانے کی درخواست کو نظر انداز کرکے خصوصی عدالت نے ٹرائل مکمل کیا۔
پرویز مشرف کے خلاف مبینہ آئینی جرم کا ٹرائل غیر قانونی طریقے سے چلایا گیا۔
پرویز مشرف نے آرمی میں 23 سال ایمانداری اور سخت لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں اور 2001 سے 2008 تک ملک کے صدر رہے۔
پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے غیر حاضری جان بوجھ کر نہیں تھی علالت کے باعث خصوصی عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔
پرویز مشرف جیل توڑ کر نہیں بھاگے تھے، خصوصی عدالت نے بھی ان کی علالت کو تسلیم کیا۔
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو غیر حاضری میں سزا سنائی۔
پرویز مشرف کی اپیل ان کی غیر حاضری میں پزیرائی کے قابل ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی اپیل کو بھی سپریم کورٹ نے غیر حاضری میں پزیرائی دی۔
خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا سابق صدر، سابق آرمی چیف اور پوری قوم کے لیے برا تاثر دیا۔
پرویز مشرف کو متعدد موذی امراض کا سامنا ہے۔
پرویز مشرف مفرور نہیں لیکن سنجیدہ بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
پراسیکیوشن غداری کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
پرویز مشرف اپنی علالت کے باعث سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو سکتے، ہسپتال میں زیر علاج ہیں، پاکستان سفر نہیں کر سکتے۔

