کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے نقصان ہوا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے، زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ہمیں کپاس باہر سے منگوانی پڑتی ہے.
عدالت کا مزید کہنا ہے کہ کاشتکار چینی مل مالکان کے دباؤ میں آکر گنا کاشت کرتے ہیں، کاشتکار کو ڈر ہوتا ہے گنا نہ اگایا تو چینی مل کا مالک زمین ہی ہتھیالے گا.
چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے یہ ریمارکس پانی کی قیمتوں اور استعمال کے طریقہ کار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی طرف سے پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار بھی کیا.
سندھ حکام کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ زیر زمین سکیم بنائی ہے، 64 ڈیمز بنا رہے ہیں.چیف جسٹس بولے آپ کے پاس اتنے پانی کے اثاثے ہیں ان کا کیا کیا؟کھینجر جھیل پاکستان کی سب سے بڑی لیک ہے،نئی گاج ڈیم بنانے سے سندھ حکومت کو کون روک رہا ہے ؟
ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی سندھ نے نئی گاج ڈیم میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہم نے کارروائی کیلئے اجازت مانگی ہے. چیف جسٹس بولےکیا وزیراعلی سندھ اینٹی کرپشن کو کارروائی کی اجازت دینگے؟. ڈپٹی سیکرٹری آبپاشی نے کہا انکوائری بھی وزیراعلی کے حکم پر ہی شروع ہوئی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں، ایسی فصلیں لگائی جانی چاہئیں جو پانی کم پیتی ہوں،کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے.
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا لاہور، قصور، کراچی اور حیدر آباد میں زیر زمین پانی آلودہ ہوگیا ہے۔
سپریم کورٹ نےچاروں صوبوں اور اسلام آباد کو واٹر سمیپوزیم پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرانی کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

