مقدمات کے خلاف سندھ میں علماء کا احتجاج
رپورٹ: عبدالجبارناصر
مقتدر علماء نے جمعہ (27 مارچ )کو مساجد کی بندش اور 100 سے زائد علماء کے خلاف مقدمات کرنے اور معافی نامے جمع کرانے کے عمل پر مقتدر حلقوں کے سامنے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ گورنر ہائوس میں جو فیصلہ ہوا تھا حکومت نے اس سے انحراف کیا ہے ، جبکہ مقتدر شخصیات نے علمائے کرام کو ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق 26 مارچ کو حکومت سندھ کی جانب سے باجماعت نمازوں کے لئے مساجد میں نمازیوں کی تعداد 3سے 5 رکھنے کی پر پابندی کے بعد پولیس نے کراچی میں 100 سے زائد علماء کے خلاف مقدمات قائم کئے اور بعض مساجد کو سیل کیا اور اب علماء سے کہا جارہا ہے کہ وہ معافی نامہ لکھکر دیں ،جبکہ علمائے نے سختی سے منع کیا ہے۔
اس سلسلے میں اتوار کو مقتدر اور اکابر علماء کے ایک وفد نے کراچی میں مقتدر شخصیات سے ملاقات کی اور اپنا احتجاج شدید انداز میں پیش کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی دیر تک جاری رہنے والی ملاقات والے وفد میں مفتی منیب الرحمن ،مفتی تقی عثمانی،مفتی عمران اشرف عثمانی، مفتی زبیر اشرف عثمانی، ڈاکٹر عادل خان،مفتی عابد مبارک،مفتی ریحان امجدنعمانی،مفتی رفیع الرحمن ہزاروی اور دیگر شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں موجودہ صورتحال پر گفتگو ہوئی اور علمائے کرام کے مقتدر شخصیات کو ائمہ مساجد اور علماء کے مسائل سے آگاہ کیا ۔ ملاقات میں علماء نے کہا کہ 26 مارچ کے اجلاس اور پریس کانفرنس میں جب ایک معاملہ طے ہوا تھا تو حکومت سندھ اچانک نیا حکم نامہ علماءکو اعتماد میں لئے بغیر جاری کیوں کیا ؟ اور پولیس کو مقدمات قائم کرنے کا حکم کیوں دیا ؟ اور پولیس نے اسی حکم کی بنیاد پر مساجد میں جمعہ اور دیگر نمازیں پڑاھنے والے آئمہ کرام اور خطبا ء کے خلاف پولیس تعزیرات پاکستان کے سیکشن 186، 188، 269 اور سندھ وبائی امراض ایکٹ 2014 کی دفعہ 4 کے تحت مقدمات درج کئے اور ایسے علماء کی تعداد 100 سے زائد ، جبکہ 50سے زائد کو گرفتاربھی کیا ہے ۔
علماء کی تذلیل کی جار رہی ہے اور انہیں حکم دیا جارہا ہے کہ معافی نامہ لکھ کر دیں ۔ بعض مساجد کو سیل کیا گیا ہے جس میں فاران کلب کے قریب واقع جامعہ مسجد گلشن شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی منیب الرحمن نے بھرپور انداز میں بات کی اور کہا کہ ہم اداروں اور حکومت کے جائز عمل کے ساتھ ہیں مگر اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے ۔ ایک روز قبل گورنر ہائوس کے اجلاس میں بات طے ہوئی اور پریس کانفرنس میں اعلان بھی ہوا ، ایسا کیوں ہوا؟ ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علمائے نے کہا کہ سندھ حکومت نے علمائے کرام کو اعتماد میں لیئے بغیر فیصلہ کیا اور علما کی توہین کی ہے۔ علماء نے عوام آگاہ بھی اور موجودہ وبا ئی حالات حکومتی احکام کی پابندی کی ترغیب بھی دی مگر حکومت نے عجلت میں فیصلے کو غلط انداز میں پیش کیا جسکی وجہ سے عوام ہمارے آئمہ کے خلاف ہو گئی ہے اس لئے ہم کسی کو مسجد آنے سے نہیں روک سکتے۔
ذرائع کے مطابق اسی احتجاجی سلسلے میں علماء کی ایک اہم ملاقات پیرکو(آج)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے متوقع ہے۔

