وائرس سے نمٹنے کی رپورٹس مسترد
کیا زکوٰۃ اور بیت المال کے محکمے تنخواہوں، انتظامی اخراجات کیلئے صدقے، خیرات کا پیسہ خرچ کرسکتے ہیں؟،سپریم کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر لی ہے۔
پیر کو عدالت نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں وفاق اور صوبوں کی طرف سے زکوٰۃ اور بیت المال سے متعلق پیش کردہ رپورٹس مسترد کر دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاق سمیت تمام صوبوں کے پیش کردہ جوابات میں شفافیت کا فقدان ہے۔
جہانزیب عباسی۔ صحافی، اسلام آباد
آج کمرہ عدالت کی بائیں جانب دیوار پر لگی گھڑی کی چھوٹی سوئی گیارہ پر جبکہ بڑی سوئی چھ پر تھی تو یہ آواز گونجی کورٹ آگیا۔چیف جسٹس اور جسٹس عمر عطاء بندیال نے ماسک پہن رکھا تھا جبکہ جسٹس قاضی امین نے کرسی پر بیٹھتے ہی ماسک اتار دیا۔جسٹس سجاد علی شاہ بغیر ماسک کے کمرہ عدالت میں آئے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران دو مرتبہ قومی ادارہ برائے ناگہانی آفات این ڈی ایم اے کا ذکر ہوا۔ پہلی مرتبہ این ڈی ایم اے کا ذکر اُس وقت ہوا جب چیف جسٹس نے حاجی کیمپ میں قائم قرنطینہ سینٹر کے بارے میں پوچھا کہ وہاں سے غیر انسانی سلوک روا رکھنے کی شکایات مل رہی ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا قرنطینہ سینٹرز کی دیکھ بھال این ڈی ایم اے کی زمہ داری ہے۔
دوسری مرتبہ این ڈی ایم اے کا تذکرہ اُس وقت ہوا جب عدالت نے پوچھا کہ اسلام آباد میں قرنطینہ سینٹرز کی چھتیں کس سے بنائی جاتی ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا قرنطینہ سینٹرز کی چھتیں فائبر کی بنائی جارہی ہیں، اس حوالے سے مکمل بریفنگ این ڈی ایم اے سے لی جاسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے روسٹرم پر کھڑے شخص سے پوچھا آپ کون ہیں؟۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اپنا تعارف کرایا تو چیف جسٹس نے کہا کہ زیادہ تفصیل میں نہ جائیں، آپ اپنی نشست پر جاکر بیٹھ جائیں، ہم پوچھتے کچھ ہیں اور جواب کچھ دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی تیسری سماعت میں بھی فوکس سندھ حکومت پر رہا۔ عدالت نے تقریبا آدھا گھنٹہ سندھ میں راشن، رقوم کی تقسیم اور دیگر سہولیات کے بارے میں سوالات پوچھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ورلڈ بنک سے پیسہ لے کر یونیسف سے خریداری کرنا ایک جیب سے پیسے نکال کر دوسری جیب میں ڈالنا ہے۔
ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ میں ایک ارب روپے کا راشن تقسیم ہوا لیکن نہ تشہیر ہوئی نہ کسی کو پتہ چل سکا، کوئی چھوٹی سی چیز بانٹی جاتی ہے تو چار لوگوں کی اخباروں میں تصویریں چھپتی ہیں، زائد المعیاد آٹا اور چاول بانٹنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہ ”میں مطلب نہیں سمجھ سکا کسی کو امداد دینے کا پتہ نہیں چلا اس کا کیا مطلب ہے؟“
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ نے سندھ حکومت سے متعلق جو ریمارکس دیئے اُن کا اطلاق باقی صوبوں پر بھی ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے حکمنامے میں لکھوایا کہ عدالتی آبزرویشن پورے ملک کے لیے ہے۔
آزاد کشمیر کی طرف سے ایک وکیل نے پیش ہو کر بتایا کہ ہمیں بھی سنا جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔
جسٹس قاضی امین نے پوچھا کرونا وائرس کے علاج کیلئے پلازما ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کیا صورتحال ہے؟
سیکرٹری صحت نے جواب دیا پلازما ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے،ایف ڈی اے نے بھی اس حوالے سے منظوری نہیں دی۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرشید نے عدالت بتایا کہ آٹھ بڑے ہسپتالوں نے مل کر ستائیس سو بیڈز پر مشتمل ہسپتال قائم کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کااقدام بہت اچھا اور قابل ستائش ہے۔
عدالتی حکم میں قرار دیا گیا پیرامیڈیکل سٹاف شاندار انداز میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے،تمام حکومتیں پیرامیڈیکل سٹاف کی مکمل دیکھ بھال کریں،پیرا میڈیکل سٹاف کو بروقت تنخواہ دی جائے،اگر ممکن ہو تو پیرا میڈیکل سٹاف کو اضافی الاونس دیا جائے۔
عدالت نے حکم میں مزید کہا اسلام آباد کے حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر سے متعلق غیر انسانی سلوک کی شکایات آرہی ہیں،وفاقی سیکرٹری صحت حاجی کیمپ کے قرنطینہ سینٹر سمیت وفاق کے تمام قرنطینہ سینٹرز پہ جاکر سہولیات کا جائزہ لیں،بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، زکوٰۃسے متعلق وفاق اور صوبوں کی رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دے دی گئیں۔
عدالت نے کہا زکوٰۃسے متعلق پیش کی گئی رپورٹس سے مطمئن نہیں ہیں. زکوٰۃ اور بیت المال کے فنڈز سے متعلق وفاق اور صوبوں سے تفصیلات طلب کر لی گئیں۔ عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل اور مولانا تقی عثمانی سے زکوٰۃاور بیت المال سے متعلق رائے طلب کرتے ہوئے قرار دیا کیا زکوٰۃ اور بیت المال کے محکمے انتظامی اخراجات کیلئے خود پر پیسہ خرچ کرسکتے ہیں،کیا زکوٰۃ اور بیت المال کے پیسے سے محکمے کے عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی ہوسکتی ہے،رائے دی جائے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا فیکٹریوں سے متعلق پورے ملک میں قوانین پر عمل کیا جائے،فیکٹریوں کے ملازمین کی بنیادی سہولیات کا خصوصی خیال رکھا جائے، امید ہے تمام حکومتیں کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے یکساں حکمت عملی اپنائے گی۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے وفاق سمیت تمام صوبوں سے نئی رپورٹس طلب کر لیں۔

