قاضی ریفرنس: جج کے کورونا ٹیسٹ کے باعث سماعت ملتوی
پاکستان کی سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت لارجر بینچ کے ایک رکن جج کے کورونا ٹیسٹ کے باعث بغیر کارروائی جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف اپیل پر مقررہ سماعت نہ ہوسکی۔
دن ساڑھے گیارہ بجے کمرہ عدالت میں دونوں طرف کے وکلاء موجود تھے، ججز کی آمد کے انتظار میں ابھی صرف ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ کورٹ ایسوسی ایٹ نے مائیک درست کرکے لکھی ہوئی تحریر پڑھنا شروع کی۔
"صدارتی ریفرنس کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے والے دس رکنی بنچ کے ایک رکن نے کورونا ٹیسٹ کرایا ہے۔ جج صاحب کو 48 گھنٹوں میں دوبارہ ٹیسٹ کرانے کی تجویز دی گئی ہے، اس لیے سماعت جمعرات کو ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کی جاتی ہے”۔
واضح رہے پیر کی صبح سپریم کورٹ کے بنچ نمبر دو میں سماعت کے لیے مقرر کردہ تمام مقدمات بھی بغیر کارروائی کے ملتوی کر دیے گئے۔ بنچ نمبر دو جسٹس مشیر عالم، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تھا۔
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس امین الدین خان صدارتی ریفرنس کے خلاف اپیل سننے والے دس رکنی بنچ کا حصہ نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے تاکہ ان کو عہدے سے ہٹایا جا سکے۔
وکلاء تنظیموں کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔
ریفرنس ہر سپریم کورٹ میں وکیل فروغ نسیم وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
فروغ نسیم ماضی میں فوجی آمر پرویز مشرف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔
فروغ نسیم ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ماضی میں ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ نیلسن میڈیلا کے بعد الطاف حسین بڑے لیڈر ہیں۔
بظاہر صدارتی ریفرنس کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران اب تک فروغ نسیم قانونی سوالات پر عدالت کو مطمئن نہیں کر پائے ہیں۔

