”پاکستان میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے“
پاکستان اور فلپائن میں ایڈز 57فیصد کی رفتار سے پھیل رہا ہے۔
یہ انکشاف سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے قومی اسمبلی میں کیا ہے جبکہ پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نوشین حامد کہتی ہیں کہ ملک میں لوگ ایڈز کا ٹیسٹ ہی نہیں کراتے، کل تعداد 1لاکھ83ہزار ہے جس میں سے رجسٹرڈ صرف 25ہزار ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایڈز پر توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں سرکاری اعداد وشمار پیش کیے گئے۔
قومی اسمبلی اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا جس میں مسلم لیگ ن کی رکن مریم اورنگ زیب سمیت دیگر خواتین ارکان کی طرف سے ملک میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر توجہ دلاو نوٹس پر گفتگو کے دوران سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا دنیا میں بڑی حد تک ایڈز کنٹرول ہورہا ہے مگر ہمارے ہاں ایڈز کے لئے وہی فنڈز لگائے جارہے ہیں جو بیرون ملک سے ملتے ہیں ہم اپنا کوئی پیسہ نہیں رکھ رہے، جس طرح کرونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کم کرکے سمجھا جارہا ہے کہ مریض کم ہوگئے اسی طرح ایڈز کے مریضوں کے ٹیسٹ تو اس سے بھی بہت کم ہیں مگر ایڈز پاکستان اور فلپائن میں 57فیصد کے شرح سے پھیل رہا ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ایڈز کے خلاف کبھی پیسہ نہیں رکھا ایڈز کے فنڈز بیرونی انحصار پر ہی رہے لوگ اس بیماری کی نشاندہی نہیں کرتے۔ ملک میں کل ایک لاکھ تراسی ہزار مریض ہیں مگر رجسٹرڈ صرف 25ہزار ہیں، بیرونی ایڈز فنڈ جو آتے ہیں، بیرون ممالک سے دوملین ڈالر ایڈز کنٹرول کے لئے آنے والے ہیں، نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور آغا خان ہسپتال ملک بھر میں ایڈز کے ٹیسٹ بڑھانے کا بڑا منصوبہ لارہے ہیں۔
سپیکر اسد قیصر نے کہا ایس جی ڈیز کمیٹی برائے ایڈز کنٹرول کو متحرک کررہے ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نوشین حامد نے ایوان کو بتایا کہ ایڈز پر 2030تک کی قومی پالیسی لارہے ہیں اب تک پمز میں ایک بھی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جسے ماں سے ایڈز منتقل ہوا ہو۔

