مسز فائز عیسی کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر
Reading Time: 5 minutesجسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اُن کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کے سپرد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نطرثانی درخواست دائر کی ہے۔
نظر ثانی درخواستوں میں وزیراعظم عمران خان، شہزاد مرزا، فروغ نسیم اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ نظر ثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ مختصر فیصلے پر نظر ثانی کرکے مختصر فیصلے کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ میں دائر کردہ نظر ثانی درخواست میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مختصر حکم نامے میں قانونی نقائص موجود ہیں، مقدمے میں مجھے اور میرے اہل خانہ کو نہیں سنا گیا، ایف بی آر اور اٹارنی جنرل کو بھی اس معاملے میں نہیں سنا گیا، مختصر حکمنامہ میں شفاف ٹرائل کے حق کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست کے مطابق چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کر کے تین ماہ کے لیے تعینات کرنا درخواست گزار کی تشویش کو درست ثابت کرتا ہے، ایف بی آر میں دیگر تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، دوسرے مرحلے میں میرے وکیل کو دلائل دینے کا موقع نہیں دیا گیا،صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کے بعد ایف بی آر کو مزید کارروائی کے لیے ہدایات جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، ایف بی آر کو معاملہ بھیج کر انتظامیہ کو غیرقانونی اقدامات کا فری لائسنس دے دیا گیا، چیئرمین ایف بی آر سے رپورٹ طلب کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔
نظر ثانی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ”میرے اہل خانہ کا معاملہ ایف بی آر کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے،چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کرنا سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، اثاثاجات ریکوری یونٹ کے قیام کے لیے قانون سازی نہیں کی گئی، ایف بی آر نے میرے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کیا، کیا درخواست گزار کے خلاف گرفتاری کا نوٹس تھا جسے دروازے پر چسپاں کیا گیا، کیا میں عدالتی مفرور تھا جو دروازے پر نوٹس چسپاں کیاگیا، دروازے پر نوٹس چسپاں کرنے کا مقصد درخواست گزار کی ججز کالونی میں تضحیک کرنا تھا۔“
مختصر فیصلے کے سترہ دنوں کے بعد حکومتی وکیل نے تحریری دلائل جمع کروائے، مجھے ان دلائل کے جواب میں دلائل جمع کرانے کا حق حاصل ہے، حکومتی وکیل نے نے دوسرا جواب مختصر فیصلے کے پچیس دن کے بعد جمع کرایا۔
سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اپنے مختصر فیصلے پر نظر ثانی کرے، مختصر فیصلے کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو دوبارہ سماعت کے لئے مقرر کر کے سنا جائے۔
اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے بھی سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی ہے۔جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فریق نہیں تھی،مجھے سپریم کورٹ کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،مجھے سپریم کورٹ کی طرف سے زاتی شنوائی کا موقع نہیں دیا گیا،میں سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے زریعے گفتگو کے علاوہ کبھی کیمرے کے سامنے نہیں آئی، مجھے شہرت کا کوئی شوق نہیں، جب میرے شوہر جج بنے تو میں نے خود کو تنہا کر لیا، میں نے کبھی اپنے شوہر کے مالی معاملات سے فائدہ نہیں اٹھایا، حکومتی وکیل کا کہنا ہے کہ جج کی موت کے بعد بیوہ مالی فائدہ اٹھاسکتی ہے تضحیک آمیز ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے نظر ثانی درخواست میں مزید کہاہے کہ میں نے سماجی اور رفاہی کاموں میں حصہ لیا،میں میڈیا کی دھوم دھام اور شہرت کے بغیر بلوچستان میں خاموشی سے وہ کام کیے جنھیں گنوانا نہیں چاہتی،میرے خلا ف جو پروپیگنڈہ کیا اْس کے جواب اور ریکارڈ کی درستگی کیلئے کچھ حقائق بتانا چاہتی ہوں،میں نے مندرجہ زیل معاملات میں شوہر کی مدد کی،کوئٹہ کچہری میں باغ کا ڈیزائن کیا،باغ کی دیکھ بھال کیلئے مالی کو تربیت دی،عوام کے بیٹھنے کی جگہ ڈیزائن کی،کوئٹہ کچہری میں کیفے ٹیریا ڈیزائن کیا،اپنے زاتی پیسوں سے برطانیہ سے خرید کر کوئٹہ کچہری میں لائٹیں لگوائیں، ہوائی کرایہ ادا کیا،کوئٹہ کچہری میں عوامی بیت الخلاء کی صفائی ستھری کو یقینی بنایا،بلوچستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز میں باغ بنوائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں دوبڑے باغ اورعوام کے بیٹھنے کی جگہ کا ڈیزائن بنایا،بلوچستان ہائیکورٹ میں سردیوں اور گرمیوں کیلئے ججز کے لباس کا ڈیزائن بنایا،بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کیلئے لباس ناظم آباد کراچی سے سلوایا کیوں کہ وہاں کوئٹہ کی نسبت کم خرچ آتا ہے،ہاتھ سے ججز کے گاؤن بنانے کیلئے ڈیزائن بنایا،بلوچستان ہائیکورٹ کے دربانوں کیلئے شیروانی کا ڈیزائن بنایا، بلوچستان ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کا ڈیزائن بنایا اور اْس پر انگریزی لکھنے کیلئے مدد کی،لاہور ہائیکورٹ میں فرنیچر منگوانے اور فرنیچر کے چناؤ میں مدد فراہم کی،بلوچستان ہائیکورٹ کی باغ کی کرسیاں کراچی سے منگوائیں،دہشت گردی اور ماحول سمیت کانفرنسز کیلئے دعوت نامے کے ڈیزائن بنانے میں مدد فراہم کی،کانفرنس کے پیپرز اور کتابوں کی چھپائی سے پہلے اْس کی پروف ریڈ نگ میں مدد فراہم کی،بلوچستا ن ہائیکورٹ میں خواتین وکلاء کے بیت الخلاء کے ڈیزائن کیلئے مدد فراہم کی۔
درخواست گذار نے مزید کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ناخواندہ ملازمین کو خواندگی کیلئے کلاسز بنانے کیلئے مدد فراہم کی، بلوچستان ہائیکورٹ سبی میں سو لہ سو پودے لگانے اور ان کی نگرانی کیلئے مدد فراہم کی، مجھے اْس ایف بی آر کی طرف دھکیل دیا گیا جسے عمران خان کی حکومت کنٹرول کر رہی ہے، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سینئر ممبر احمد کو شہزار مرزا نے پندرہ اپریل کے دن دفتری اوقات کے بعد ملاقات کیلئے بلایا،طیہ ملاقات عبدالوحید ڈوگرکی شکایت کا جائزہ لینے کیلئے کی گئی، سولہ اپریل کے دن احمد سے دوبارہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے ملاقات کی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ میں شامل ایف بی آر کے رکن محمد اشفاق احمد نے یہ تجویز دی کہ ایف بی آر چیئرمین کو خط لکھا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا چیئرمین اے آر یو نے چیئرمین ایف بی آر سے شکایت میں درج افراد کے اثاثوں اور گوشواروں کے تجزیے کی اجازت مانگی،انکم ٹیکس قانون میں یہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سمیت کسی کو یہ اتھارٹی حاصل نہیں ہے،چیئرمین ایف بی آر نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی اس درخواست کو رد کردیا،غیر قانونی طریقے سے قائم کردہ اے آر یو کے سیکرٹری منظور احمد کیانی نے ایف بی آر چیئرمین کو بائی پاس کرکے آٹھ مئی کو خط لکھ دیا،اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے اپنے اور بیوی بچوں کے اثاثوں کی مکمل تفصیل چھپائی ہے،سپریم کورٹ نے مجھے سنے بغیر معاملہ ایف بی آر میں بھیج دیا،دفاع کا موقع دیئے بغیر میرے اور بچوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنا شفاف ٹرائل کے اصول کے منافی ہے،میراور بچوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے، عبوری حکمنامے پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔
