پاکستان24 متفرق خبریں

‘صحافیوں کے خلاف جرائم میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا تاثر ہے’

جولائی 22, 2020 3 min

‘صحافیوں کے خلاف جرائم میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا تاثر ہے’

Reading Time: 3 minutes

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے معروف صحافی مطیع اللہ جان کی بازیابی نمٹاتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں یہ معاملہ جبری گمشدگی کا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف ظاہر ہے کہ اغوا کاروں نے بغیر کسی ڈر کے ایک صحافی کو دن دیہاڑے اغوا کیا اور وہ بھی اس شہر سے جو حساس نوعیت کا ہے اور جہاں ہر وقت سکیورٹی ہائی الرٹ رہتی ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف جرائم کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیوں کہ صحافیوں کے خلاف جرم سے معاشرے اور بنیادی حقوق پر برا اثر پڑتا ہے۔ ‘ریاست کے اداروں کے صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا تاثر ہیں آئین کے تحت فراہم کیے گئے حقوق کی خلاف ورزی کو تقویت دیتا ہے۔ اس طرح کے جرائم کا مقصد آزادی اظہار رائے کو سب کرنا اور دوسروں کو پیغام پہنچانا ہے۔’

عدالتی آرڈر کے مطابق ریاست کے اداروں کے ایسے جرائم میں ملوث ہونے کا تاثر آزادی اظہار رائے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں کئی صحافیوں کو سچ کا پرچار کرنے پر قتل کردیا گیا۔ کوئی بھی معاشرہ آزادی اظہار رائے کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ مقدمہ حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ کے لئے ایک چیلنج ہے۔ حکومت بتائے کہ آزادی اظہار رائے کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ حکومت اغوا کاروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی اور ایک مثال قائم کرے گی۔ عدالت درخواست نمٹاتے ہوئے امید کرتی ہے کہ معاملے کی صاف شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی۔ حکومت، اس کے ادارے اور کوئی بھی شخص آئین و قانون سے مبرا نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں سابق امریکی صدر جارج واشنگٹن کا قول بھی شامل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘اگر آزادی اظہار رائے نہ ہو تو ہم بھیڑ بکریوں کی طرح خاموش کر کے مقتل کی جانب ہانک دیے جائیں۔’

اس سے قبل بدھ کی صبح مطیع اللہ جان کے اغوا کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دن دیہاڑے جس طرح صحافی کو اٹھایا کیا سب ادارے تباہ ہو چکے ہیں؟

بدھ کو مقدمے کی سماعت میں پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کس میں اتنی ہمت ہے کہ پولیس کی وردی میں بندہ اٹھالے؟ پولیس کی وردی پہنے، پولیس کی گاڑی جیسےاشارےلگائے کون پھرتا رہا؟ چیف جسٹس نے پوچھا کہ پولیس کہاں تھی، دارالحکومت میں ایسے کیسے ہوگیا؟

عدالت نے پولیس کو اغواکاروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ اغوا کا پرچہ دے دیا ہے اس میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مقدمہ درج کیا تو اچھا کیا، لیکن یہاں روٹین کی باتیں مت بتائیں۔ پولیس ایسے اقدامات کرے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ اس کیس کو نمٹایا نہ جائے، عدالت پیشرفت رپورٹس طلب کرے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ عدالت اس کیس کی نگرانی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو کیا تاثر جائے گا کہ یہاں پولیس کی وردی میں اغوا کار دندناتے پھر رہے ہیں؟ یہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے، صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔ کل جو کچھ ہوا اس کے لئے پوری ریاست ذمہ دار ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی صحافیوں کی آزادی کی بات کرتی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، یہ پولیس کیساتھ وفاقی حکومت کے لئے بھی ٹیسٹ کیس ہے۔

عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے