نیب قانون میں ترمیم، حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک
پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترمیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔
منگل کو پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث نہ ہو سکا۔
ادھر وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے مخالف ہیں جبکہ مشیر داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے وزیراعظم کا موقف واضح ہے کہ احتساب کے عمل پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔
پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کے چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث اجلاس میں نہ آئے۔ حکومتی کمیٹی کے ارکان اجلاس منسوخی کا پیغام ملتے ہی کمیٹی روم سے چلے گئے۔
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیب قانون کا اطلاق 16 نومبر 1999 سے ہونا چاہیے، اگر کسی نے 5 سال کے اندر جرم کیا ہے تو اسی پر کیس ہونا چاہیے، ایف اے ٹی ایف کے تین بل حکومت نے 6 اگست سے پہلے بنا کر پیش کرنے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے بدلے اپوزیشن جو مانگ رہی ہے وہ تحریک انصاف تو کیا کوئی حکومت نہیں دے سکتی، اپوزیشن کے35نکات کا مطلب نیب کو بند کرنا ہے۔
چیف وہپ عامر ڈوگر نے کہا کہ بیک ڈور رابطے چل رہے ہیں کل اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ رابطے کی کوشش کریں گے۔
قبل ازیں نیب آرڈیننس میں ترامیم پر اپوزیشن نے حکومت سے مزید مذاکرات کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کو نیب قانون میں اپنی ترامیم پیش کیں حکومت نے مسترد کر دیں اور انتقامی کاروائیاں کررہی ہے اب مزاکرات نہیں کریں گے، پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ اس لیے کیا کہ حکومت نیب ترامیم پر غیر سنجیدہ ہے اس لیے اب مزید بات نہیں ہو سکتی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ اس لئے کیا کہ حکومت نیب ترامیم پر نیک نیتی سے بات نہیں کر رہی اور انتقامی کاروائیاں کررہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ہمیشہ کہا پارلیمان کو مظبوط بنائیں لیکن حکومت مخلص نظر نہیں آرہی۔ یہ انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے۔
شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نیب قانون میں ہماری ترامیم مسترد تو کر رہی ہے لیکن یہ نہیں بتا رہی کہ اسے کون سی ترامیم پسند نہیں ہیں۔

