جنرل باجوہ کے دورے کی ‘جعلی تصاویر’ کیوں؟
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جس پر سوشل میڈیا میں تبصرے جاری ہیں۔ ان کے ہمراہ اس دورے میں ملک کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ جنرل فیض حمید بھی تھے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورے کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان اور تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب سعودی عرب میں بھی اس دورے کی میڈیا کوریج صرف نائب وزیر دفاع سے ملاقات کی حد تک رہی۔
پاکستان کی فوج کے ترجمان نے دورے کے اختتام پر اس حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین پرانی تصاویر شیئر کرکے تبصرے کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے نے جنرل باجوہ کے دورے کے بارے میں صرف ایک ٹویٹ کی ہے جس میں ان کو نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
سرکاری طور پر اس دورے کی صرف دو تصاویر اور تین سطروں پر مشتمل ایک جملے کی پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں سعودی عرب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نائب وزیر دفاع نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے برادر ملکوں کے دوطرفہ تعلقات اور دفاع امور پر بات چیت کی۔
وزارت دفاع کے ایک اہم عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب میں جنرل باجوہ کی شہزادہ محمد بن سلمان اور شاہ سلمان سے ملاقات کی باضابطہ تصاویر یا خبر جاری نہیں کی گئی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر پرانی ہیں۔

