خاندانی کاروبار: عاصم باجوہ کی تردید مگر سوالات کی بھرمار
Reading Time: 2 minutesپاکستان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں شائع کی جانے تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرے اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز میں ہیں اور صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ نے خبر کی اشاعت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ سب پروپیگنڈہ ہے اور وہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
انہوں نے تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد ٹویٹ کیا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’
عاصم باجوہ کے خاندانی کاروبار کے بارے میں صحافی احمد نورانی نے طویل تحقیقاتی خبر فیکٹ فوکس ڈاٹ کام پر شائع کی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر اپنے اثاثوں کے بارے میں دستاویزات پبلک کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ نے غلط بیانی کی اور اپنی اہلیہ کے کاروبار کو چھپایا۔
تحقیقاتی خبر میں دعوی کیا گیا ہے کہ عاصم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور ان کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’
سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے عاصم سلیم باجوہ کی تردیدی ٹویٹ پر ان سے کہا ہے کہ ‘یہ اچھا ہے کہ آپ نے رپورٹ کی تردید کر دی لیکن عوامی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک فقرے کی تردید کافی نہیں ہوگی۔’
پاکستان میں فوج کے زیرانتظام کاروبار پر کتاب کی مصنفہ اور محقق عائشہ صدیقہ نے بھی عاصم باجوہ سے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ‘جنرل صاحب، یہ بہت مناسب ہوگا اگر آپ دستاویزی ثبوت کے ساتھ الزامات کی تردید کریں۔ ایک جملے سے بات نہیں بنے گی۔’
ٹوئٹر پر زیادہ تر صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف چھان بین ہو تاکہ الزامات کا سلسلہ ختم ہو سکے اور لوگوں کے سامنے اصل حقائق آئیں۔