اغوا کا سلسلہ بند ہوگا یا ہائیکورٹ: جسٹس اطہر من اللہ
پاکستان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہریوں کے اغوا پر حکومت اور متعلقہ محکموں کے سربراہوں کی جانب سے خاموشی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وہ یہ معاملہ وزیراعظم کے علم میں لائیں۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سلسلہ بند ہو گا یا پھر یہ ہائیکورٹ بند کر دیتے ہیں، اگر یہ سلسلہ نہیں رک سکتا تو ہم یہاں ہائیکورٹ میں کیا کر رہے ہیں۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے اغوا کیے گئے افسر کے عدالت میں موجود اہلخانہ اور بچوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ یہ بچے جو ساجد گوندل کے ہیں یہ کسی کے بھی بچے ہو سکتے ہیں۔ کہیں سے تو شروع کرنا ہو گا ہمیں اپنے فرائض مکمل طور پر نبھانے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھیں، پولیٹیکل وِل گراؤنڈ پر دکھائی دینی چاہیے، اس عدالت کو وزیراعظم پر اعتماد ہے، وزیراعظم اسلام آباد میں قانون کی بالادستی لا کر مثال بنائیں گے۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایسی مثال کہ کسی اور ماں کو بیٹے کی گمشدگی پر اس عدالت میں نہ آنا پڑے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مجھے وقت دیں میں یہ معاملہ وزیراعظم کے علم میں لاتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت آپ کو ایک موقع دیتی ہے۔
پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل کی بازیابی کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی تو سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جرم وفاقی حکومت اسلام آباد میں سرزد ہوا۔ یہ چھوٹا سا علاقہ واحد علاقہ ہے جو وفاقی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری داخلہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس جیسی کتنی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں؟ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو آئین کا آرٹیکل 4 با آواز بلند پڑھنے کا حکم دیا اقر ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری صاحب کیا آئین کی عملداری ہو رہی ہے؟ آج ایسے ہی ایک اور کیس میں وفاقی وزیر داخلہ کو طلب کیا گیا ہے، ایک اور کیس میں بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔ ہر روز اس عدالت میں اس قسم کی درخواستیں آ جاتی ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایف آئی اے، پولیس رئیل اسٹیٹ کاروبار میں ملوث ہیں؟ ایسی لا قانونیت میں عدالت چپ نہیں بیٹھ سکتی۔ عدالت کو بتائیں کہ جبری گمشدگی کا ایک کیس بھی ٹریس ہوا ہو؟ آپ وفاقی کابینہ کو آگاہ کریں کہ 14 سو اسکوائر میل کے اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کا کام تحقیقات میں مداخلت کرنا نہیں، کیا آپ ساجد گوندل کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے؟ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ آئی جی پولیس نے ساجد گوندل کی بازیابی کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ کیس جبری گمشدگی کا ہے؟
سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ اس موقع پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین نے پھر ساجد گوندل کی گمشدگی کا کیسے نوٹس لے لیا؟ کیا ان کو کسی نے بتایا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایسے کچھ بنیادی حقوق ہیں جن پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس 14 سو اسکوائر میل کے علاقے میں کوئی زمینوں پر قبضہ کرنے کی ہمت کرے؟ کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے؟ کیا اسی لیے آج آپ سب کو طلب کیا گیا ہے؟ اگر پاکستان کے دارالحکومت میں قانون کی حکمرانی نہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟ ایف آئی اے، آئی بی کے سابق اہلکار سوسائٹیوں کے فیصلے کراتے ہیں، قانون کی حکمرانی کیسے ہوگی؟ مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے کسی نے وزیراعظم کو آگاہ ہی نہیں کیا ہوگا، اگر وزیر اعظم کو آگاہ کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ عدالت کو بتائیں کہ آپ ان تین دنوں میں شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکے ہیں۔ بتائیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ واحد کیس نہیں، ہر شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہوگا۔ یہ راتوں رات نہیں ہوا، یہ مس گورننس ہے۔ اگر آپ 14 سو اسکوائر میل میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں کر سکتے تو کہہ دیں کہ آپ فیل ہو گئے۔ یہ حقیقی کرپشن ہے، کرپشن کی وجہ قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے۔ نیب نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی ہی کرپشن روک سکتی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سیکرٹری صاحب کیا آپ نے ان تمام چیزوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے؟ آپ کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اس لا قانونیت کو ختم کرنا ہوگا، کوئی تو ذمہ دار ہوگا۔ کہہ دیں کہ قانون کی حکمرانی نہیں، تاکہ ہر شہری اپنی حفاظت خود کرے۔ سیکرٹری صاحب آپ وزیر اعظم اور کابینہ کے نوٹس میں اسلام آباد میں قانون کی حکمرانی کی صورتحال لائیں۔ اگر تب بھی کچھ نہیں ہوتا تو مجھے نہیں معلوم کیا کہنا چاہیے۔ اس 14 سو اسکوائر میل کے چھوٹے سے علاقے میں زمینوں پر قبضہ اور دیگر جرائم کیسے پنپ سکتے ہیں؟ روز تفتیشی افسر یہاں آتے ہیں، اور انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا، تفتیشی افسروں کی نا اہلی کے باعث عدالتوں پر تنقید ہوتی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری صاحب کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک اہم شخصیت کا بیٹا لا پتہ ہوگیا تھا؟ اور ریاست کیسے حرکت میں آئی تھی؟ اسلام آباد کے منتخب نمائندوں کو بھی شہریوں کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک افسر کو اغوا کر لیا گیا، تین دن تک ریاست نے کچھ نہیں کیا۔ اس عدالت کو اپنی کارکردگی دکھائیں، بتائیں کہ ہم نے عوام کا اعتماد حاصل کرلیا، اغوا کاروں کو سزا دلائی۔ ایک پالیسی ترتیب دیں، ورنہ ہر شہری کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے کیونکہ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ جرائم ہوتے ہیں، پھر ان کی تحقیقات بھی نہیں ہوتیں۔ جائیں اور زمینوں پر قبضے کا جائزہ لیں، آپ کی اپنی وزارت، دیگر وزارتیں زمینوں ہر قبضوں میں ملوث ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معاملہ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے نوٹس میں لانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے وزیر اعظم بہت ہمدرد ہیں، وزیر اعظم ماؤں کا خیال رکھنے والے ہیں، یہ عدالت بھی ایک ماں ہے۔ اس عدالت کو وزیر اعظم پر مکمل اعتماد اور اعتبار ہے۔ وزیر اعظم اس 14 سو اسکوائر میل میں قانون کی حکمرانی قائم کرکے ایک مثال قائم کریں گے۔ اس کے بعد کسی ماں کو اس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ سیکرٹری صاحب آپ کے پیچھے جو یونیفارم والے ہیں یہ ریاست کے نشان ہیں، ان کی عزت ہونی چاہیے۔ اس قسم کے باقی مقدمات میں کو بھی دیکھیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔

