مہر عبدالستار پر مقدمات میں کتنا سچ، کتنا جھوٹ؟
فاروق طارق
پنجاب کے مزارعین کی انجمن کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار اپریل 2016ء سے جیل میں ہیں۔ سنہ 2001ء سے 2016ء تک ان کے خلاف 36 مقدمات درج کئے گئے۔ چند میں وہ بری ہو چکے تھے آخری مقدمے میں وہ 8 ستمبر کو بری ہو گئے۔
انصاف سولی پر ساڑھے چار سال لٹکا رہا
جس مقدمے میں مہر ستار کو 10 سال سزا ہوئی، اس میں FIR کے مطابق وقوعہ شام سوا چار بجے کا ہے۔ مہر کی ”گولی کھانے والے“ کانسٹیبل کا ہسپتال میں داخلہ وقوعہ سے 40 منٹ پہلے ثابت ہوا۔
اسی طرح میڈیکل رپورٹ کہتی ہے کہ گولی ہسپتال میں داخلے سے 4 سے 5 گھنٹے پہلے لگی۔
اتنا جھوٹا مقدمہ
ساہیوال کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے میں سزا 10 سال قید کی سنائی۔ ساڑھے چار سال بعد ہائی کورٹ سے اس وقت بری ہوئے جب سرکاری وکیل نے بھی کہہ دیا کہ مقدمہ جھوٹا ہے۔
ہائی کورٹ میں کیا ہوا؟
جب سال 2018 میں مہر عبدالستار کو انسداد دہشت گردی عدالت نے سزا سنائی تو اس کے فوری بعد لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
پچھلے دو برسوں میں کئی دفعہ تاریخ نکلی اور سینئر وکیل مرحوم زاہد بخاری مہر عبدالستار کی جانب سے پیش ہوتے رہے۔
سارا کیس جھوٹ پر مبنی تھا۔ چار ماہ تک یہ ایف آئی آر سیل رکھی گئی۔
مثلا اس کیس میں کہا گیا کہ مہر ستار نے ایک کانسٹیبل کو گولی ماری، اس کانسٹیبل کا بیان پانچ ماہ بعد ریکارڈ کیا گیا۔
پانچ ماہ بعد ہی جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول برآمد کر لیے گئے یعنی جی ٹی روڈ پر گولیوں کے یہ خالی خول پانچ ماہ تک پولیس کا انتظار کرتے رہے اور انہوں نے اپنے آپ کو جی ٹی روڈ پر چلنے والی ہیوی ٹریفک سے بھی بچا کر رکھا۔ پولیس نے خالی خولوں کی لیبارٹری ٹیسٹنگ یا فرانزک بھی نہ کرائی تھی۔
کیس میں بحث پانچ ماہ قبل ہی ہو چکی تھی۔ سرکاری وکیل کے علاوہ ملٹری فارمز انتظامیہ نے ایک وکیل کر رکھا تھا جس نے پانچ دفعہ کیس کی سماعت مختلف بہانوں سے ملتوی کرائی۔
ان وکیل صاحب کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور کیس پر بحث کے بعد ہی ان کے ریمارکس تھے اب کچھ بچا تو نہیں لیکن میں مہر ستار کے دو سال تو پورے کراؤں گا جیل میں۔ ظاہری سی بات ہے کہ وکیل کو ان کے کلائنٹ نے اسی بات کی فیس دی ہوگی۔
ہائی کورٹ کی چھٹیوں سے پہلے اگر وہ وکیل پیش ہوتے تو یہ فیصلہ اس وقت ہی آ جانا تھا۔ اخری پیشی پر تو انہوں نے بیماری کا بہانہ کر لیا۔
آٹھ ستمبر کو پیش ہوئے تو محترم جج صاحبان کے اس سوال کا جواب بھی نہ دے سکے کہ سات فٹ سے 12 بور پسٹل کی گولی تو آر پار ہوتی ہے یہاں وہ واپس آتی ہے۔ جواب میں آئیں بائیں شائیں۔
اور پھر ججوں نے بری کرنے کا اعلان کر دیا۔

