‘اکیلی عورت اور رات کا سفر’: پولیس افسر کے بیان کا حکومتی دفاع
پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ امور شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ موٹر وے پر ہونے والے ریپ کے واقعے پر لاہور پولیس کے سربراہ (سی سی پی او) عمر شیخ کے بیان کو خواہ مخواہ متنازع بنایا جا رہا ہے۔
جمعرات کو لاہور میں سی سی پی او لاہور کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریپ کا یہ واقعہ انتظامیہ کی نااہلی ہے جس کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ’ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘
یاد رہے لاہور – گوجرانوالہ موٹروے پر خاتون کے ریپ کے واقعے کے بعد سی سی پی او نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ’تین بچوں کی ماں کو رات کے وقت جی ٹی روڈ استعمال کرنا چاہیے تھا اور گاڑی میں پٹرول بھی چیک کرنا چاہیے تھا۔‘
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے سی سی پی او عمر شیخ کو اس بیان پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکومت سے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہزاد اکبر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کوئی ایسا غیر محفوظ معاشرہ نہیں کہ کسی کو کسی بھی وقت گھر سے نکلنے پر کوئی مسئلہ ہو۔‘
انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ان عناصر کو گرفتار کرنا اور کیفر کردار تک پہنچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں۔
’حکومت اور پولیس کا کام ہے کہ شاہراہوں کو عوام کے لیے محفوظ بنایا جائے۔‘ اس موقع پر سی سی پی او عمر شیخ نے بتایا کہ واقع کے حوالے سے چار خطوط پر تحقیقات جاری ہیں۔
شواہد اکٹھے کرنے کے لیے قدموں کے نشانات کے ماہرین کو بلایا گیا اور کچھ شواہد مل بھی گئے ہیں، اسی طرح جیو فنسنگ کی ٹیم کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزموں نے جب شیشہ توڑا ہے تو ان کا خون نکلا ہے، ڈی این اے کے لیے بھی ٹیم بلائی گئی ہے۔

