پاکستانی پارلیمان کے ارکان سرعام سزاؤں کے حامی
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان نمائندگان یعنی قومی اسمبلی میں موٹروے ریپ واقعہ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے میں ہم آواز ہو گئے اور زیادہ تر ارکان نے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کی حمایت کی۔
سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے، وفاقی وزیر مرادسعید نے کہا کہ واقعہ جہاں بھی ہوا ہماری ریاست کی ذمہ داری ہے۔
پیر کو سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ لاہور موٹروے پر تفصیلی بحث کی گئی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان سے سوال کیا کہ ایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، قانون سازی کر کےسقم دور کئے جائیں، مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ موٹروے پر اس واقعے نے پورے پاکستان میں ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا، شکر ہے کہ آج مجرم گرفتار ہو گیا، سوال یہ ہے کہ اس سلسلے کو کیسے روکا جا سکتا ہے، جب پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت وقت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ موٹروے پر کس کا کنٹرول ہے، جب زینب کا واقع ہوا تو پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے اس حادثے پر اشتعال دلایا، 1300سیمپلز لیے گئے اور وہ شخص پکڑا گیا، وزیراعظم صرف اپوزیشن کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہیں، موٹروے پر سکیورٹی پولیس کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ بدنام زمانہ افسر کو تعینات کیوں کیا گیا؟ اس افسر کو ہاوس کمیٹی میں بلا کر بیان پر وضاحت لی جائے؟ کراچی میں پانچ سالہ بچی سے جو واقعہ ہوا اس کی تحقیقات سے متعلق بتایا جائے۔
وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ افسوس بحث اس پر نہیں ہورہی درندوں کو کیسے عبرت کا نشان بنایا جائے، نہیں سوچا جارہا کہ اس خاتون پر ہماری گفتگو کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، ہم نظام کو ٹھیک کرنے پر بحث نہیں کررہے، ہمارے ہاں بحث برائے بحث اور برائے سیاست ہورہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ہمارے قوانین میں ہر جرم کی سزا موجود ہے، کون سا ایسا قانون ہے جس میں جرم کی سزا تفویض نہیں۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری عزت کسی کی ماں بہن بیٹی بیوی کے طورپر نہیں ایک عورت کی حیثیت سے کی جائے، ہمیں سخت ترین سزا پر بھی سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہئے، بہت سے ممالک میں سخت سزا دی گئی مگر جرائم نہیں رکے، بعض ممالک میں کیمیائی مواد سے نامرد کردیئے جانے کی سزا نافذ ہے۔
پی ٹی آئی کے عامر لیاقت نے مطالبہ کیا کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے ملزموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔
جے یو آئی کے مولانا عبدالشکور نے کہا کہ سرعام پھانسی ہونی چاہئے، اسلام سرعام سزاوں کا حامی ہے، نوازشریف دور میں سرعام سزا دی جاچکی ہے۔
مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا کہ سرعام سزاوں کے لئے اسلام کا حکم ہے۔
مسلم لیگ ن کے رکن کھیل داس کوہستانی کا سرعام سزاوں کا بل قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس بل کو ایوان منظور کرلے۔
قومی اسمبلی نے منگل کو بھی موٹروے واقعہ پر بحث جاری رکھنے کے لئے قواعد معطل کرنے کی منظوری دیدی۔

