مسلمانوں سے بدترین سلوک پر فرانس کا چین سے احتجاج
فرانس نے چین کے سنکیانگ صوبے میں چینی جبر کے شکار ایغور مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور حراستی مراکز بند کرنے کے لیے چین پر دباؤ ڈالتا رہے گا۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے چین سنکیانگ میں غیر جانبدار مبصرین کو جانے دے۔
چین کو مسلمان اقلیت پر کیے جانے والے مبینہ ظلم و ستم کی وجہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آسٹریلیا کے ایک تھنک ٹینک نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے لیے قائم سینکڑوں جبری مشقتی اور مذہب تبدیلی کے مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان اینجیز وان در مہل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے چین سے سنکیانگ میں حراستی مراکز بند کرنے اور وہاں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مائیکل بیچیلیت کے زیر نگرانی بین الاقوامی آزاد مبصرین کا مشن بھیجنے کا کہا ہے۔‘

