صحافی کے گھر چھاپہ کیوں؟ سائبر کرائم قوانین کا غلط استعمال قبول نہیں: عدالت
راولپنڈی میں صحافی ارشد سلہری کے گھر پہ بغیر ثبوت اور شواہد کے چھاپہ مارنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ٹھوس شواہد اور مکمل تفتیش کے بغیر ایف آئی اے نے صحافی کے گھر پہ کیوں چھاپا مارا؟
رپورٹ: جہانزیب عباسی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی ارشد سلہری کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد کے نوٹس اور گرفتاری کے لیے چھاپے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سائبر قوانین کے شہریوں کے خلاف غلط استعمال پر ایف آئے کی سرزنش کر دی۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل کی جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے وکلا نے صحافی ارشد سلہری کی نمائندگی کی۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ خاتون صحافی انجم ابراہیم کی شکایت پر تفتیش اور کال ڈیٹا ریکارڈ ہمیں صحافی ارشد سلہری تک لے گیا، خاتون صحافی کی شکایت میں نا معلوم افراد کو نامزد کیا گیا، صحافی ارشد سلہری کا فون واٹس ایپ میسج کے لیے استعمال ہوا، جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنائے گئے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ٹھوس تفتیش اور شواہد کے بغیر صحافی کی گرفتاری کے لیے چھاپہ کیوں مارا؟ایف آئی اے نے صحافی کے گھر چھاپہ کیوں مارا، آپ اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے پوچھاگھر پر چھاپہ مارنے کے نتائج معلوم ہیں ؟گھر پر چھاپےسے پڑوسی کیاُسوچتےہیں؟ کسی کو بلاوجہ کرمنل کیوں بناتے ہو؟ پہلے تفتیش مکمل کرتے۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے کہا کہ صحافی کی گرفتاری کے لیے نہیں اس کے گھر کے پوسٹل ایڈریس کی تصدیق کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم گئی تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سائبر کرائم قوانین کے غلط استعمال کو عدالت برداشت نہیں کرے گی، ایف آئی اے سائبر قوانین کے ناجائز استعمال کے ذریعے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، انکوائری کے نوٹس میں متعلقہ ملزم کو شکایت اور دستیاب معلومات فراہم کیوں نہیں کی گئی؟ اس عدالت کے بارے میں کتنی غلط چیزیں آتی ہیں تو آپ چھاپے مارنا شروع کر دیں گے؟
تفتیشی افسر نے کہا انکوائری اور چھاپے کی اجازت سرکل انچارج سائبر کرائم محمد سلمان نے دی. جسٹس اطہر من اللہ نے کہا اس انکوائری اور چھاپے کی اجازت دینے والے کے خلاف عدالت کاروائی کرے گی۔ یہ عدالت کسی شہری کی درخواست پر چھاپے مارنے کی اجازت نہیں دے گی۔
عدالت نے ایف آئی اے کو از سر نو انکوائری کا حکم دے دیا اور نوٹس کی صورت میں مکمل معلومات فراہم کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔
کیس کی آئندہ سماعت دس دنوں تک کیلئے ملتوی کردی گئی ہے. خیال رہے اس مقدمہ کی سماعت 12 اکتوبر کو ہوئی تھی۔

