پاکستان

گلگت بلتستان انتخاب و ضابطہ اخلاق کی طاقت

اکتوبر 28, 2020

گلگت بلتستان انتخاب و ضابطہ اخلاق کی طاقت

تحریر: عبدالجبارناصر

انتخابی مہم کا عروج !
گلگت بلتستان میں 15 نومبر 2020ء کو ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات 2020ء کی انتخابی مہم عروج پر ہے ۔ پاکستان سے مختلف سیاسی کے قائدین اپنی جماعتوں کی مہم کے لئے گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں ۔پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ایک ہفتے سے گلگت بلتستان میں ہیں اور اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور انتخابی مہم کے سلسلے میں 28 اکتوبر 2020ء کو تحریک انصاف کی مہم کے سلسلے میں ضلع دیامر پہنچ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا میں سرگرم رہنمائوں کے مطابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور انتخاب مہم کے چھوٹے بڑے اجتماعات میں شرکت کریں گے اور ضلع دیامر میں واقع گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ 16 دیامر 2 کے ریٹرننگ آفیسر سہیل احمد خان نے 6 اکتوبر 2020ء کو چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی جانب سے جاری انتخابی ضابطہ اخلاق کے پیراگراف نمبر 18 کا حوالہ دیکر مقامی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وفاقی وزیر کو کسی بھی طرح کا سرکاری پروٹوکول فراہم نہ کیا جائے اور اس کے بعد تحریک انصاف کے حامیوں اور مخالفین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ حکم درست ہے یا نہیں ہے ؟ اگر عمل نہیں ہوا تو اثرات کیا ہونگے ؟

ضابطہ اخلاق کی پابندیاں !
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کے 6 اکتوبر 2020ء جاری ضابطہ اخلاق میں واضح کیاگیاہے کہ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 233کی روشنی میں یہ گلگت بلتستان انتخابی ضابطہ اخلاق 2020ء تیار کیا گیا ہے۔ 6 اکتوبر 2020ء کو جاری ضابطہ اخلاق میں واضح ہے کہ ’’وزیر اعظم، چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ، وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت ، گورنر ز، وزرائے اعلیٰ ،وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے مشیر،مئیرز، چئیرمینز، ناظمین اور بمع نگراں حکومت کے دیگر سرکاری عہدہ رکھنے والی شخصیات (سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں)کسی بھی طرح انتخابی مہم میں نہیں شرکت کرسکتی ہیں‘‘۔ یہ پابندی اس لئے لگائی گئی ہے کہ سرکاری عہدہ رکھنے والی شخصیات کسی بھی طرح انتخابی عمل میں اثر انداز نہ ہوں۔

وزیراعظم اور علی امین پر زیادہ سختی!
گلگت بلتستان انتخابی ضابطہ اخلاق 2020ء (جو انتخابی ایکٹ 2017ءکی روشنی میں تیار کیاگیا ہے) کے پیراگراف نمبر 18 کے مطابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کی انتخابی مہم غیر قانونی اور ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخاب 2020ء کے ضابطہ اخلاق کے ضمن میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان پر اس لئے بھی زیادہ سختی کی ضرورت ہے کہ یہ دونوں شخصیات بر بنائے عہدہ عملا گلگت بلتستان کے تمام انتظامی و مالیاتی اختیارات کے مالک ہیں۔ براہ راست انتخابی مہم میں ان کا کردار نہ صرف دھاندلی بلکہ بدتر از ہوگا۔ علی امین گنڈاپور پر ویسے بھی قبل از انتخابات امیدواروں کی وفاداری کی تبدیلی میں کردار کے حوالے سے عوامی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں مبینہ طور گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کی تحریک انصاف کے امیدواروں سے ملاقاتیں اور مبینہ سرگرمیاں بھی قابل گرفت ہیں۔

ضابطہ اخلاق اور ایکشن !
ضابطہ اخلاق کو انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء اور ایکٹ 2017ء کو آئین کا تحفظ حاصل ہے ۔ ایکٹ 2017ء اور ضابطہ اخلاق نہ صرف الیکشن کمیشن گلگت بلتستان ، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان، ریٹرننگ آفیسران ، بلکہ پریذائیڈنگ آفیسران کو وسیع بھی اختیارات فراہم کرتا ہے ۔ یہاں تک اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوسکتی ہے تو انتخابی عمل کو معطل بھی کرسکتے ہیں ۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ 2019ء میں سندھ میں ایک ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی وزراء اور مشیروں کی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے حکومت سندھ کو انتباہ کیا تھا کہ اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جاری رہی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ضمنی انتخاب کو ملتوی کردے گا۔ جو احباب الیکشن کمیشن گلگت بلتستان ، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان، ریٹرننگ آفیسران اور پریزائیڈنگ آفیسران کے اختیارات کو ہوائی باتیں یا مذاق سمجھتے ہیں ، ان کو انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کے سیکشن 236 پر بھی ایک بار ضرور غور کرنا چاہئے ۔

چیف الیکشن کمشنر کا امتحان!
شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمشنر آف گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کروائیں اور جو بھی خلاف ورزی کر ے ایکشن لیں ۔ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء الیکشن کمیشن گلگت بلتستان ، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان اورریٹرننگ آفیسران کو جو وسیع قانونی اختیارات دیتا ہے ، ان کا استعمال کرکے سخت کارروائی کریں ،تاکہ انتخابات کی شفافیت متاثر نہ ہو۔ ایکشن کے لیے اعتراض جمع کرانے کا انتظار بھی اپنے فرض سے غفلت کے مترادف ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان پر عائد ہوتی ہے اور شفاف انتخابات بھی ان کا امتحان ہیں ، کیونکہ انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے نیک یا بدنامی انہی کے حصے میں آئے گی۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو روکنے کے ضمن میں انتخابی عمل شریک جماعتیں، امیدوار، ووٹرز، میڈیا، سماجی قیادت اور دیگر تمام افراد اپنا مثبت کردار انصاف پر شکایت کی نشاندہی کی صورت میں ادا کر سکتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے