پاکستان پاکستان24

کس ملک میں ‘ڈیپ سٹیٹ’ نہیں ہوتی؟ وزیر اطلاعات شبلی فراز

اکتوبر 31, 2020

کس ملک میں ‘ڈیپ سٹیٹ’ نہیں ہوتی؟ وزیر اطلاعات شبلی فراز

پاکستان میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ ملک میں عدم استحکام سنہ 2016 کے ڈان لیکس سے شروع ہوا جو اب ڈیموکریٹ موومنٹ کے جلسوں میں تقاریر کے ذریعے جاری ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد اپوزیشن نے اے پی سی کی،گوجرانوالہ کا جلسہ ہوا، تقاریر سنیں۔ کراچی میں کس طرح سے قائد کے مزار کی توہین کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ جلسے میں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا گیا اور بات یہاں ختم نہ ہوئی بلکہ اس کے بعد قومی اسمبلی میں ایاز صادق نے تقریر کی جس سے ملک میں غصہ پھیلا۔ سینیٹ میں مولانا عطا الرحمان نے تقریر کی۔

شبلی فراز کے مطابق ایک بیانیہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار بنانے کے لیے۔

پاکستان کے اداروں کو براہ راست اور بھونڈے طریقے سے ہدف بنایا جائے اور یہ دشمن کا بیانیہ ہے۔

پی ڈی ایم کی تقاریر کی نہ کسی سیاسی رہنما نے اس کی تردید کی اور نہ اس کی مذمت کی۔

کچھ لیڈران مجبوری کے باعث خاموش ہیں مگر وہ بھی اس میں شامل ہیں۔

وہ نہ اس کی معافی مانگنا چاہتے ہیں اور نہ اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا واقعہ جس میں ایاز صادق نے ہماری بہادر افواج کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ اور جب یہ سب ہو رہا تھا تو اس وقت ہمارے دشمن کا میڈیا اس کو کس طرح پیش کیا وہ آپ کو دکھانا چاہتے ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ‘سیاسی بدمعاش جو پھر رہے ہیں ان کے بیانات پر ان کا احتساب کریں گے اور ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔’

وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے آنے کے بعد سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفادات پر سیاست ہوگی۔ نواز، مریم، بلاول اور فضل الرحمان کا بیانیہ کسی طور پر قومی مفاد میں نہیں۔ ان کو ملک کے خلاف باتیں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر خارجہ اور ملک کے سپہ سالار کے بارے میں کتنی غلط باتیں ہو رہی ہیں۔

‘اب ان کو اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے میرے والد احمد فراز یاد آ گئے ہیں اور مجھے ان کے طعنے دیتے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ خبریں آئی ہیں کہ ن لیگ کے جنرل عبدالقادر بلوچ نے استعفیٰ دیا ہے، دیگر رہنماؤں کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔

جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد نے بھی نواز شریف کے بیانیے کے حوالے سے بیان دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی ان کے رفقا اتفاق نہیں کرتے۔

جو بیانیہ لے کر پی ڈی ایم چل رہی ہے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرے گی۔

سندھ کو دوزخ بنا دیا ہے اور گلگت بلتستان والوں سے وعدے کر رہے ہیں کہ آپ کے لیے جنت بنائیں گے۔

وزیر اطلاعات ملک کی سالمیت کے خلاف باتوں پر ان لوگوں کو پاکستان کے عوام سزا دیں گے۔ عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

قومی سلامتی کے خلاف باتیں کیں تو زبانیں کھینچ دیں گے۔

نواز شریف کے لوگ نئی پارٹی مسلم لیگ پاکستان کے نام سے بنائیں جیسے الطاف حسین کے لوگوں نے ایم کیو ایم پاکستان بنائی۔

قانونی ٹیم بیٹھی ہوئی ہے اور ایاز صادق کے بیان پر کارروائی کریں گے۔

کس ملک میں ڈیپ سٹیٹ نہیں ہوتی؟ امریکہ میں کیا ڈیپ سٹیٹ نہیں ہوتی؟۔

ہماری پالیسی میں کسی جماعت پر پابندی لگانا شامل نہیں۔

 

 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے