توانائی شعبے کا گردشی قرضہ دو ہزار 300 ارب ہو گیا
پاکستان میں توانائی شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سیکرٹری توانائی ڈویژن کے مطابق موجودہ دور حکومت میں گردشی قرضے میں ایک ہزار 139 ارب روپے اضافہ ہوا۔
پیر کو اسلام آباد میں رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔
کمیٹی اجلاس میں توانائی ڈویژن کے حکام نے ہوشربا انکشافات کیے۔ چیرمین کمیٹی نے حکام سے استفسار کیا کہ موجودہ حکومت نے 5 دفعہ بجلی قیمتوں میں اضافہ کیا تو گردشی قرضہ کم کیوں نہیں ہوا؟
سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں 116 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھ گیا۔ مالی سال 2019 کی پہلی ششماہی میں گردشی قرضے میں 288 ارب کا اضافہ ہوا۔ مالی سال 2019 کی دوسری ششماہی میں گردشی قرضے میں 198 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
مالی سال 2020 کی پہلی ششماہی میں 243 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ مالی سال 2020 کی دوسری ششماہی میں 294 ارب گردشی قرضہ بڑھا۔
توانائی ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ 283 ارب روپے بلوچستان حکومت کے ذمے واجب الادا ہیں۔ بلوچستان میں زرعی صارفین کے لیے وفاق 40 فیصد اور بلوچستان 60 فیصد سبسڈی دے رہا۔
بلوچستان 60 فیصد، وفاق 40 فیصد اور زرعی صارفین 10 ہزار روپے فکسڈ فراہم نہیں کر رہے،ایگریکلچر سبسڈی، صنعتی شعبے کیلئے سبسڈی سے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جن ڈسکوز سے ریکوری نہیں ہو رہی وہاں بجلی بند کر دی جائے۔ سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ نیشنل گرڈ سے 650 میگاواٹ کے الیکٹرک کو فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کے الیکٹرک سے ریکوری نہ ہونے سے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے۔

