فیصل واوڈا عدالت سے چھپن چھپائی نہ کھیلیں: ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی حکومت کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دئیے کہ جب عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ جواب جمع کرائیں تو کیوں نہیں کرایا؟ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں، ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئےفریقین کو نوٹس جاری کیے اور کہا کہ میں سٹے نہیں دوں گا، عدالت فیصلہ کر چکی ہے کہ الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر حکم جاری کر دیں گے۔
عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیاکہ کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے؟ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دئیے کہ جب عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ جواب جمع کرائیں تو کیوں نہیں کرایا،عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں، ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا،آپ الیکشن کمیشن میں بھی پیش نہیں ہو رہے۔
فیصل واوڈا کا درخواست گزار کے وکیل سے مخاطب ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے ان سے مخاطب ہونا ہے یا عدالت سے، کیا آپ پہلی بار ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ہیں،عدالتی کارروائی کا مذاق مت بنائیں، الیکشن کمیشن میں بھی آپ یہی کر رہے ہیں اور یہاں بھی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جتنی بار بھی فیصل واوڈا سے کہا گیا ہے کہ جواب دیں انہوں نے نہیں دیا،الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی سمیت تمام ریکارڈبھی عدالت میں جمع کروا دیا۔
عدالت نےفیصل واؤڈا کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظورکرتے ہوئےکیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔

