دہشت گردی کرانے والے ادارے اور شخصیات کا پتہ چل گیا: پی ڈی ایم
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کے قتل اور ن لیگ کے رہنماؤں کو قتل کی دھمکی سے اصل دہشتگردوں کا چہرہ سامنے آگیا۔
پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیر داخلہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر غور کیا گیا کہ قتل کی منصوبہ بندی دہشتگردوں کو سامنے رکھ کر ریاست کی سطح پر کیوں ہوتی ہے ؟
انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم کے جلسوں میں کچھ ہوا یا ایسا کوئی اور واقعہ ہوا تو جرم کرنے والے ادارے اور شخصیات کا پتہ چل گیا۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا دھاندلی میں ملوث جرنیلوں کا نام لینے کو سپورٹ کرتا ہوں، اگر سیاستدانوں کا نام لیا جاسکتا ہے تو پھر ادارے کا کسی اور شخص کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے تو پھر بھی سب کو پتہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کون ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کراچی میں مریم نوازشریف کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا اور پولیس کی اعلیٰ کمان کی توہین کی گئی.۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل باجوہ نے تحقیقاتی کمیٹی بناکر 10 دن میں رپورٹ کا کہا، آج تین ہفتے گزرگئے لیکن اب تک رپورٹ کیوں سامنے نہیں لائی گئی؟

