جسٹس فائز عیسٰی کی اہلیہ کا عدالتی بینچ پر اعتراض
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے صدارتی ریفرنس فیصلے پر نظر ثانی درخواستیں سننے والے سات رکنی بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کو دی گئی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مرکزی مقدمے میں فریق نہ ہونے کے باوجودمیرے اور بچوں کا تفصیلی فیصلے میں 194مرتبہ ذکر کیا گیا۔ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئےمیری نظرثانی درخواستیں وہ بنچ سنے جس نے مرکزی مقدمہ سناتھا۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کیس کا فیصلہ دس رکنی بینچ نے سنا،نظر ثانی درخواستوں کو سننے کیلئے سات رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا مزید کہنا ہے کہ نظر ثانی بینچ میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو شامل نہیں کیا گیا،میری دانست میں نظر ثانی درخواستیں وہی بینچ سنتا ہے جس نے مرکزی کیس سنا ہو،مرکزی مقدمے میں نہ میرے بچے فریق تھے اور نہ ہی مجھے فریق بنایا گیا،اسکے باوجود 194 مرتبہ تفصیلی فیصلے میں میرا اور میرے بچوں کا ذکر کیا گیا،تفصیلی فیصلے میں جسٹس عمر عطا بنددیال نے 81 مرتبہ جسٹس مقبول باقر نے 39 مرتبہ ہمارا ذکر کیا،جسٹس فیصل عرب نے سات مرتبہ جسٹس منصور شاہ نے 54 مرتبہ، جسٹس یحی آفریدی نے 13 مرتبہ ہمارا ذکر کیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ میرا نظر ثانی کا مقدمہ وہی بینچ سنے جس نے مرکزی مقدمہ سنا تھا،اگر اختلافی نوٹ لکھنے والے تین ججوں کو بینچ میں شامل نہ کیا گیاتو میرے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے، چیف جسٹس سپریم جوڈیشئل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔
”ہم نے اپنی درخواستوں میں جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا ہوا ہے، اعلی عدلیہ کا ضابطہ اخلاق کہتا ہے کہ چیف جسٹس بطور جوڈیشل کونسل مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں،مجھے یقین ہے چیف جسٹس نظر ثانی بینچ میں اختلافی نوٹ لکھنے والے جج صاحبان کو بھی شامل کریں گے۔“

