پاکستان پاکستان24

پاکستان پر مجموعی قرضہ 440 کھرب سے بڑھ گیا

نومبر 12, 2020

پاکستان پر مجموعی قرضہ 440 کھرب سے بڑھ گیا

‏پاکستان پر تحریک انصاف کی حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے اور سرکاری دستاویز کے مطابق ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 44 ہزار801 ارب یعنی 440 کھرب سے بڑھ گیا۔

دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت نے سوا دو سال میں 14 ہزار 922 ارب روپے قرض لیا۔

ناقدین کے مطابق ریکارڈ قرضوں کےباوجود یہ حکومت کوئی ایک بھی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کر سکی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے 98.3 فیصد ہوگیا، مقامی قرضوں کا بوجھ سوا دو سال میں 7 ہزار 285 ارب روپے بڑھ گیا، جبکہ مقامی قرضوں کا حجم 23 ہزار 701 ارب روپے ہوگیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی قرضوں کے بوجھ میں سوا دو سال میں 6 ہزار 416 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد بیرونی قرضوں کا بوجھ 17 ہزار 369 ارب روپے ہوگیا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق جون 2018 تک ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 29 ہزار 879 ارب روپے تھا، جون 2018 تک مقامی قرضے 16 ہزار 416 ارب روپے تھے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق جون 2018 تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 10 ہزار 953 ارب روپے تھا، جبکہ 2013 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14 ہزار 318 ارب روپے تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق ن لیگی دور میں قرضوں کے بوجھ میں 15 ہزار 561 ارب روپے کا اضافہ ہوا، مشرف کے 9 سال میں قرضوں میں 3 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا، پیپلز پارٹی کے 5 سال میں قرضوں میں 8 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے