پاکستان

جسٹس قاضی فائز اپنا کیس براہ راست نشر کرنے کے خواہش مند

دسمبر 5, 2020
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

جسٹس قاضی فائز اپنا کیس براہ راست نشر کرنے کے خواہش مند

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے تناظر میں نظر ثانی درخواست میں اضافی نکات شامل کیے ہیں۔

انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی نظرثانی بینچ کا حصہ بنایا جائے۔

جسٹس فائز کے مطابق شہزاد اکبر کی بھی بیرون ملک میں جائیدادیں ہیں، وفاقی کابینہ میں موجود اراکین کی بھی غیر ملکی جائیدادیں ہیں، فیض آباد دھرنے کیس کا فیصلہ دینے پر مجھے نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے لیے تشکیل دیے بینچ پر بھی اعتراض اٹھایا اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی نظرثانی بنچ کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے درخواست میں لکھا ہے کہ سرکاری عہدہ داروں نے میرے اور اہل خانہ کے خلاف منفی پراپگنڈہ مہم چلائی،فیصلے سے سات پیراگراف کو حذف کیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست میں کہاہے کہ زلفی بخاری، عاصم سلیم باجوہ، ندیم بابر، فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔
”مجھے یہ علم نہیں وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والوں نے انھیں ظاہر کیا یا نہیں۔“

درخواست میں مزید موقف اپنایا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر نے ایف بی آر سے غیر قانونی طریقے سے میرے اور اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیل تک رسائی حاصل کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے