مریم نواز اور بینظیر بھٹو: زنجیر اور ڈور
اظہر سید ۔ صحافی و تجزیہ کار
لاہور جلسے سے پہلے ڈیل کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ آئندہ 24 گھنٹے بہت اہم ہیں ۔نواز شریف کے خلاف اپریشن "جے ہو” اگر چین اور سی پیک مخالف عالمی قوتوں کی ایما پر رچایا گیا تو پھر ملک، قوم اور حب الوطنی سب فراڈ ہے اور کسی بڑے سانحہ کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کسی بڑے سیاستدان کو قتل کرا سکتی ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں را دہشت گردی کراتی ہے اور نومبر،دسمبر میں دہشت گردی کے خطرات ہیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو عقلمندی کرتیں تو آج بھی شاید زندہ ہوتیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ڈیل کر لیتا تو شائید پھانسی کے پھندے سے بچ جاتا ۔
اب تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ہوش کے ناخن لیتے تو شاید کرونا سے بچ جاتے ۔
یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اگر جارج بش کے امن منصوبے کی مخالفت نہ کرتے تو شاید پراسرار موت کا شکار نہ ہوتے ۔سعودی صحافی اگر کراون پرنس کی مخالفت نہ کرتا تو شائد سفارتخانے میں بوٹی بوٹی نہ ہوتا ۔ روس سمیت متعدد ممالک کے منحرفین دنیا بھر میں اپنے ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے پنجوں سے بچ نہیں سکے ۔کئی عالمی لیڈروں کو ان کے اپنے ملکوں کی ایجنسیوں نے راہ سے ہٹایا بھلے وہ کینڈی ہو ۔ تیسری دنیا کے کئی راہنما عالمی طاقتوں کی ایجنسیوں کی بھینٹ چڑھے۔
مریم نواز کی زندگی کو حقیقی خطرات لاحق ہیں ۔انکی جان چلے گئی تو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی بعض عقلمندوں کے نزدیک اپنی موت آپ مر جائے گا کہ مریم نواز کے والد عمر خضر لے کر نہیں آئے اور بے شمار طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں ۔مریم نواز کو کچھ ہوا تو ووٹ کو عزت دو کی وراثت ختم ہو جائے گی اور مصلحت کی وراثت میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی صورت میں پیدا ہونے والا خلا ہی نہیں بھرے گی مسلم لیگ ن کے ہیوی ویٹ بھی شہباز شریف کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیں گے ۔یہ وہ آئیڈیل صورتحال ہے جس پر عملدرامد کے نتایج سے خوف آ رہا ہے ۔مریم نواز کو کچھ ہوا تو یقینی طور پر حالات محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت سے بہت مختلف ہیں ،ملک حقیقی معنوں میں افراتفری کا شکار ہو جائے گا اور یہی ملک دشمن قوتوں کی خواہش ہے ۔
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کو اقتدار دے دیا گیا تھا ۔مریم نواز کو بھارتی خفیہ ایجنسی را نے قتل کرا دیا تو پھر آئیڈیل صورتحال یہ ہو گی کہ ایک تیر سے دو تین شکار کر لئے جائیں ۔چنتخب حکومت کو فارغ کر دیا جائے اور عوام کے جذبات ٹھنڈے کئے جائیں ۔ عام انتخابات کا اعلان کر دیا جائے اور بغیر مداخلت کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو زوردار سلوٹ کیا جائے اور پھر سکون اطمنیان کے ساتھ ووٹ کو بھر پور عزت دی جائے ۔
مریم نواز کے لیے مشورہ ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی زندگی بچانے کے اقدامات کریں، جلسے جلوسوں کو ختم کر دیں۔ملکی معیشت کی جو صورتحال ہے عوام خود ہی جلسے جلوس نکال کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کا جلوس نکال دیں گے۔
مریم نواز اپنی جان بچائیں جس طرح ان کے والد میاں نواز شریف نے جنرل مشرف سے بچائی تھی اور جدہ چلے گئے تھے۔ بھٹو اور بینظیر نے اپنی جانیں گنوا دیں کیا ووٹ کو عزت مل گئی ؟ محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی جلسے سے ایک روز قبل ایک فوجی جنرل نے حقیقی خطرات سے آگاہ کیا تھا لیکن بی بی کا پختہ خیال تھا کہ "یہ مجھے مرنے نہیں دیں گے۔”
مریم نواز کو اگر بی بی کی طرح کوئی اعتماد یا کوئی غلط فہمی ہے تو وہ ملکی معیشت کی صورتحال اور عوامی بے چینی کے عروج میں فیصلہ کرنے والوں کی بے حسی دیکھ لیں ان کی غلط فہمی دور ہو جائے گی ۔
چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران اپوزیشن اکثریت ہونے کے باوجود ہار گئی کیا کسی چیف جسٹس نے سو موٹو لیا۔ یہ بدقسمت لوگوں کا ملک بن چکا ہے یہاں عدالتیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیراعظم کو فارغ کر دیتی ہیں ۔پھانسی کی سزا سنا دیتی ہیں۔ صدر کے خلاف خط نہ لکھنے پر منتخب وزیراعظم کو سزا سنا کر فارغ کرا دیتی ہیں لیکن ایک ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اربوں روپیہ کے غیر ملکی اثاثوں کی طرف آنکھیں اٹھا کر اس خوف سے نہیں دیکھتیں کہ آنکھیں نکال ہی نہ دی جائیں۔
اب تو اس ملک میں ناہنجار کرونا انہیں ہی نشانہ بناتا ہے جو باغی ہوتے ہیں ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی بھی انہیں ہی نشانہ بنائے گی جو باغی ہیں جیسے را نے طالبان کے ذریعے بینظیر کو قتل کروایا۔
سابق وزیرداخلہ تو خود تصدیق کر چکے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما طالبان نے باغی ہونے کی وجہ سے مارے تھے۔مریم نواز بغاوت چھوڑیں اور اپنی جان بچائیں ۔
وقت آئے گا جب پاکستان مہذب جمہوری ریاست بن جائے گا ۔یہ تاریخ کا گول چکر ہے اس کا اپنی جگہ پر مستقل رہنا ممکن ہی نہیں ۔ تبدیلی تو آنا ہی ہے اور تمام حالات واقعات تبدیلی کی طرف ہی جا رہے ہیں ۔ مریم نواز مناسب وقت کیلئے اپنی جان کو محفوظ رکھیں اور آگ سے مت کھیلیں ۔حالات کا جبر کل خود لوگوں کو مریم نواز کی طرف لے آئے گا مریم نواز اس وقت کا انتظار کریں اور فوج کے اعلی عہدیداروں کے خلاف بیان بازی بند کر دیں۔لاہور جلسے میں عدم شرکت کا اعلان کر دیں ۔ یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں اور ایک دوسرے سے منسلک ہیں ۔زنجیر نہیں ٹوٹے گی زندگی کی ڈور ٹوٹ جائے گی ۔

