سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن کو پانچ برس قید
سعودی عرب کی ایک عدالت نے ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن لجین الھذلول کو پانچ برس آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
الھذلول پر الزام عائد کیا گیا انہوں نے بیرونی ایجنڈے پر ملک میں فساد پھیلایا اور امن کو نقصان پہنچایا۔
لجین الھذلول کی رہائی کے لیے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھائی۔
خیال رہے کہ سعودی عرب، ایران اور چین میں بادشاہی اور کنٹرولڈ نظام ہے جہاں عدالتیں حکومتوں کے تابع ہیں۔
تینوں ملک انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے عالمی انڈیکس میں بہت نچلے درجے پر ہیں۔

