اسلام آباد میں پولیس نے نوجوان کو 22 گولیاں مار کر قتل کر دیا
وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ 22 سالہ نوجوان اسامہ ندیم ستی کو رات کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے 22 گولیاں ماریں جس سے اس کی موت ہوگئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ پولیس نے گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کی تاہم گاڑی پر سامنے سے گولیوں کے نشان ملے ہیں۔
پمز ہسپتال کے ترجمان وسیم خواجہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیا کو بتایا کہ نوجوان کو سامنے سے گولیاں ماری گئیں۔
اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں مقتول نوجوان کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں اسلام آباد پولیس کے پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد لواحقین نے مقتول کا جنازہ کشمیر ہائی وے پر رکھ سڑک کو بلاک کر دیا۔ احتجاج میں سول سوسائٹی اور تاجر بھی شریک تھے۔
مقتول کے والد نے اسلام آباد کے رمنا تھانے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کا بیٹا رات دو بجے اپنے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تھا۔
’اسامہ ندیم کی ایک روز قبل پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہو گئی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے مجھ سے کیا تھا۔‘
اسامہ ندیم کے والد کا موقف ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کو مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی، گذشتہ رات ان پولیس اہلکاروں نے میرے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کر کے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

