پاکستان

اسامہ قتل میں ملوث اہلکار پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش

جنوری 3, 2021

اسامہ قتل میں ملوث اہلکار پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش

وفاقی دارالحکومت میں نوجوان کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو پیٹی بھائیوں نے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کیا اور ڈیوٹی جج سے ریمانڈ حاصل کیا گیا۔

دوسری جانب اسامہ قتل کیس کی تفتیش کیلئےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی۔سات رکنی ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی اورآئی بی کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

اسلام آباد کےسیکٹرجی10 میں گزشتہ روزپولیس کی فائرنگ نوجوان کی ہلاکت کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی تیم تشکیل دیدی گئی ہے۔

ایس پی صدر سرفراز ورک کی سربراہی میں جے آئی ٹی انسداد دہشتگردی ایکٹ کےسیکشن 19 کے تحت چیف کمشنراسلام اباد نے نے تشکیل دی، جے ائی ٹی کے 7ممبران ہوں گے۔

آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔ ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس ایچ اور رمنا بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ تھانہ رمنا میں سیون اے ٹی اے کے تحت درج ہے ایف آئی آر میں تین سو کی دفعات لگائی گئی ہیں ۔

واقعے میں ملوث 5 پولیس اہلکاروں کوگرفتارکیا جاچکا ہے اہلکاروں نے22 گولیاں فائر کی تھیں اورگاڑی کی فرنٹ اسکرین پر بھی گولیوں کے نشانات تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسامہ ستی کو گولیاں لگنے سے جسم کے 11 مقامات پر زخم آئے، نوجوان کے سر، کمر، پاؤں اور بازوں پر زخم پائے گئے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پھیپھڑوں پرگولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کے باعث نوجوان کی موت ہوئی۔

اسامہ ندیم کے قتل کے واقعے کو سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں 6 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے