وزیراعظم نے شرط عائد کر دی، ’پہلے تدفین کریں پھر کوئٹہ جاؤں گا‘
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں سانحہ مچھ کے متاثرین سے ملنے جانے کے لیے شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے لاشوں کی تدفین کریں پھر دھرنا دینے والوں کے پاس جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دو وزرا کو متاثرین کے پاس کوئٹہ بھیجا۔ سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ لاشوں کو دفنائیں گے تو آج ہی کوئٹہ جاؤں گا۔ ’پہلے ان کو دفنائیں تو کوئٹہ جاؤں گا۔‘
جمعے کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’اپنے ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے۔ کیونکہ ایک ملک کو جو وزیراعظم ہوتا ہے، پھر اس طرح ہر کوئی بلیک میل کرے گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو یہ جو ملک میں ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دو، نہیں تو ہم حکومت گرا دیں گے، یہ بھی تو ڈھائی سال سے ایک بلیک میلنگ چل رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس لیے یہ بہت اہم ہے کہ جب تمام مطالبات بھی مان لیے ہیں اور میں نے ان کو کہا ہے کہ جیسے ہی آپ ان کو دفنائیں گے میں کوئٹہ آؤں گا۔ اور لواحقین کے ساتھ ملوں گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’اگر آپ آج ان کو دفنائیں گے تو میں آج ہی کوئٹہ جاتا ہوں اور ان سے ملتا ہوں۔ یہ نہیں کر سکتے کہ آپ شرط عائد کریں کہ جس کی کوئی سمجھ نہیں ہے، کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم دفنائیں گے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے وزیراعظم کے بیان کی مذمت کی ہے اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خدشات ہیں جس کی وجہ سے وزیراعظم کے کوئٹہ جانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

