کس قانون کے تحت نعیم بخاری کو لگایا گیا؟ عمر کی حد کیا ہے؟ عدالت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن (پی ٹی وی) میں چیئرمین سمیت چھ عہدیداروں کے تقرر کے خلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے۔
منگل کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں پی ٹی وی کے چیئرمین کے تقرر کا طریقہ کار واضح ہے تو پھر یہ سب کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری، قائم مقام ایم ڈی سمیت 6 تعیناتیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکلاء آصف گجر اور شکیل عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی وی کے جانب سے وکیل محمد حماد جبکہ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی طیب شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں تقرر کا طریقہ کار واضح ہے۔
پی ٹی وی کے چیئرمین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تعیناتی کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ وفاقی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ کس کو تعینات کریں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں عمر کی حد کیا ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کہا ہوا ہے تو پھر آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
وکیل نے جواب دیا کہ مجھے ریکارڈ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کو چھوڑیں آپ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں۔
وکیل چیئرمین پی ٹی وی نے موقف اختیار کیا کہ کمپنیز آرڈیننس کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چیئرمین کی تعیناتی کی ہے۔
وکیل کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے نہیں وفاقی حکومت نے چیئرمین کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیرمین پی ٹی وی کی سمری وفاقی حکومت کو جب بھیجی تو اس میں کیا لکھا ہے؟ وکیل نے موقف اپنایا کہ چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی کی ایک سمری پہلے بھیجی گئی اور پھر دوسری سمری بعد میں گئی۔
عدالت نے فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے سیکرٹری وزارتِ اطلاعات کو نمائندہ افسر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
کیس کی سماعت 14 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی۔

