عدالت کا نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام سے روکنے کا حکم
پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چیئرمین نعیم بخاری کو عدالت نے کام سے روک دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عبوری حکم نامہ جاری کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، عدالت اس تعیناتی کو کالعدم نہیں کر رہی Restraint کا مظاہرہ کرتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کا فیصلہ موجود ہے کہ عمر کی اپر لمٹ یا حد کی ریلیکسیشن کی وجہ دینا بھی ضروری ہے۔ کیا فیصلے کے دوسرے پورشن کے تحت اس پوسٹ کا اشتہار دیا گیا؟ کیا آپ نے زائد عمر سے متعلق ریلیکیشن دی؟ 13 نومبر کی؟
وزارت اطلاعات و نشریات کی سمری عدالت کے سامنے پیش کردی گئی جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ آپ نے سمری بھیجتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں پڑھا تھا؟ آپ نے عطاالحق قاسمی کیس میں جو غلطیاں تھیں وہی یہاں کیں ہیں۔ عمر حد میں مستثنیٰ قرار دینے کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے دی جانے والی منظوری کدھر ہے؟ عطاء الحق قاسمی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھیں۔ آپ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھے بغیر سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی۔ نہ کابینہ نے واضع طور پر عمر کی ریلیکسشن کا کوئی فیصلہ کیا نہ آپ نے صحیح سمری بھیجی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں نعیم بخاری صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ ہم یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیج رہے ہیں وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر اس کو دیکھے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ عدالت اس تعیناتی کو کالعدم نہیں کر رہی، تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں، کابینہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
عدالت نے نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام کرنے سے روکتے ہوئے وزارت اطلاعات کو نئی سمری تیار کر کے کابینہ کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی وی ایم ڈی پی ٹی وی کو کام سے نہیں روک سکتا۔ نعیم بخاری نے بطور چیئرمین جو غیر قانونی کام کیا وہ بھی کابینہ کو بھیجا جائے۔ کیس کی مزید سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

