فیصل واوڈا نے جھوٹا بیان حلفی کیسے جمع کرا دیا؟ ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی ہے جہاں جسٹس عامر فاروق نے فیصل واوڈا کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ”مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں جواب کس طرح لوں۔ یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔ اگر فیصل واوڈا نے امریکی شہریت لی تو پاکستانی تو سرینڈر ہو جاتی ہے۔ فیصل واوڈا نے جھوٹا بیان حلفی کیسے دیا ہے، اس کے اپنے نتائج ہیں۔“
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی۔
فیصل واوڈا کے وکیل نے موقف اپنایا کہ انہوں نے درخواست خارج کرنے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بنچ کا خواجہ آصف کیس میں فیصلہ موجود ہے۔
درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی عدالت میں پیش کیے۔ اور بتایا کہ اس کیس میں آج سولہویں پیشی ہے۔ اس عدالت نے فیصل واوڈا سے ایک سال قبل جواب طلب کیا تھا جو نہیں دیا گیا۔ مجسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ہم فیصل واوڈا کو جولائی 2023 تک کی تاریخ دے دیتے ہیں۔ ہم نے کہا تھا کہ فیصل واوڈا عدالت میں جواب جمع کرائیں۔ جو بھی سوالات آپ اٹھا رہے ہیں ان میں کوئی نئی چیز نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔ کیا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا ہے؟
فیصل واوڈا کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن میں دلائل جاری تھے، کورونا کی وجہ سے کیس نہیں لگ رہا۔ میری کیس خارج کرنے کی درخواست پر درخواست گزار جواب دیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تو عدالت نے دوسرے فریق سے جواب مانگا ہی نہیں، پہلے مجھے جواب دیں۔ یہ سول کورٹ نہیں ہے جہاں آپ درخواست دیں اور ہم دوسرے فریق سے جواب مانگ لیں۔ اس متفرق درخواست پر پہلے عدالت کو مطمئن کریں پھر دیکھیں گے۔ آپ کے موکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں۔ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں جواب کس طرح لوں۔ یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔ کیا فیصل واوڈا دوہری شہریت رکھتے تھے؟ انہوں نے امریکی شہریت کب چھوڑی؟
فیصل واوڈا کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے میں اس عدالت کو متفرق درخواست پر مطمئن کرونگا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ پہلے بھی آپ نے ہی وقت مانگا تھا۔ تحریک انصاف کی ہی تین ممبران قومی اسمبلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ اسی عدالت نے کیا۔ ان کے وکلاء نے عدالت کو مطمئن کیا اور عدالت نے درخواستیں مسترد کر دیں۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں، کوئی نہیں پوچھتا کہ کیوں نہیں کرتیں۔ اگر آج مورخ یہاں اس عدالت میں بیٹھا ہوتا تو لکھتا۔ پھر تو رنجیت سنگھ والا سسٹم ٹھیک تھا۔ اگر فیصل واوڈا جواب نہیں دینا چاہتے تو بتا دیں ہم الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔
وکیل جہانگیر جدون نے فیصل واوڈا کا بیان حلفی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ دوہری شہریت والا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اگر فیصل واوڈا نے امریکی شہریت لی تو پاکستانی تو سرینڈر ہو جاتی ہے۔ فیصل واوڈا نے جھوٹا بیان حلفی کیسے دیا ہے، اس کے اپنے نتائج ہیں۔ الیکشن کمیشن کو تو یہ معاملہ خود ہی دیکھ لینا چاہیے تھا۔
عدالت نے فیصل واوڈا کو 8 فروری تک جواب کرانے کا ایک اور موقع دیدیا۔ کیس کی سماعت 8 فروری تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

