پاکستان

اوپن بیلٹ ریفرنس: ”آئین کی تشریح پارلیمان نہیں عدالت کر سکتی ہے“

جنوری 14, 2021

اوپن بیلٹ ریفرنس: ”آئین کی تشریح پارلیمان نہیں عدالت کر سکتی ہے“

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس اور ازخود نوٹس کے مقدمات میں اپیل کا حق نہیں ہوتا،عدالتوں کو ایسے معاملات میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے پارلیمنٹ کو نہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے ذریعے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ دلائل کا آغاز جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوالات سے کرنا چاہتا ہوں، یہ سوال کیا گیا سینیٹ کا معاملہ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں بھیجا گیا،وفاق نے رائے کے لیےسپریم کورٹ سے رجوع کیا،اگر آئین میں تشریح درکار تو پارلیمنٹ سے رجوع کیا جاتا ہے،حکومت کا مقدمہ یہ ہے کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کی جائے،آئین کی تشریح کا فورم پارلیمنٹ نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاپارلیمنٹ قانون بناتا ہے سپریم کورٹ تشریح کرتی ہے،سوال یہ بھی ہے ہم تشریح کیسے کریں۔

اٹارنی جنرل نے کہاسپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا آئین کی تشریح کا اختیار ہمیں حاصل ہے،یہی میرے دلائل کا نچوڑ ہے،23 سال پہلے سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا سیاسی اور غیر سیاسی سوالات کے درمیان تفریق کیے بغیر فیصلے کیے جائیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آئینی شقوں کو لغوی معنی کے زریعے بیان نہ کریں،آئینی شقوں کو فقہ قانون کی نظر سے دیکھیں،جہاں آئین نے حقوق دیئے ہیں وہیں ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا جہاں آئین خاموش ہو وہاں قانون کا اطلاق ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا مقدمہ بھی یہی ہے،ہر ملک میں آئینی معاملات کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ ہوتی ہے یا پھر آئینی عدالت ہوتی ہے،ہماری سپریم کورٹ ہی آئینی عدالت ہے، بنگلہ دیش ، بھارت سری لنکا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک میں سپریم کورٹ آئینی و سیاسی معاملات میں آئین کی تشریح کرتی ہے، اگر آئینی معاملات پر سیاسی معاملات غالب آجائیں تو تب عدالت ان معاملات سے گریز کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد مرتبہ سپریم کورٹ بھی سیاسی معاملات کی تشریح کر چکی ہے، ہماری سپریم کورٹ اکثر سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ کو بھجتی رہی ہے،اگرچہ آئین نے سپریم کورٹ کو اختیار دیا ہے لیکن پھر بھی عدالت نے معاملات واپس بھیجے، عدالت خود کہہ چکی ہے کہ اسے تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے،اگرچہ عدالت بہت سے معاملات پارلیمنٹ کو بھیج چکی ہے لیکن عدالت اپنی نظیروں کی پابند ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں اور قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا طریقہ کار موجود ہے،الیکشن ایکٹ 2017 کے باب 7 میں سینیٹ کا مکمل طریقہ کار دیا گیا ہے،ان دونوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے صرف اوپن بیلٹنگ میں بیلیٹ پیپر کے پیچھے ووٹ ڈالنے والے نام لکھا ہوگا،اس کا مقصد یہ ہے کہ معلوم کیا جا سکے کہ کس رکن اسمبلی نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔

چیف جسٹس نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہااٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تمام وکلاء کو موقع دیں گے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے