پاکستان میں کوئی مہنگائی نہیں: حکومت کا سینیٹ میں بیان
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) میں حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں کوئی مہنگائی نہیں بلکہ صرف چند اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا چیلنج درپیش ہے۔
وزیر توانائی عمر ایوب نے ملک میں بلیک آوٹ کی ذمہ داری ن لیگ کی سابق حکومت پر ڈالی اور آصف زرداری کو مسٹر ٹن پرسنٹ کہا جس کے بعد تو پیپلز پارٹی کے اراکین نےایوان سر پر اٹھا لیا اور سینیٹ مچھلی منڈی کا منظر پیش کر تا رہا۔
جمعے کو سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کی۔
وزیر توانائی عمر ایوب نے ملک میں مہنگائی اور توانائی کے بحران پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے جو غلط منصوبہ بندی کی اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور یہ خمیازہ 2023 تک بھگتیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اٹھارہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ کی بجلی کی ترسیل نہیں کر پائی تھی جبکہ موجودہ حکومت 23 ہزار میگا واٹ پہنچا رہی ہے، بارودی سرنگ لگا کر گئے تھے ۔جس کی وجہ سے 247 ارب کی مزید سبسڈی دینی پڑی ۔
عمر ایوب نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی تعریف میں جو ارٹیکل لکھے وہ دیکھا دوں آپ کو ۔ زرداری نے ٹین پرسنٹ بن کر عوام کا پیسہ لوٹا تھا ۔
عمر ایوب کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ ایوان مچھلی منڈی بنا رہا چئیرمین نے مشکل سے صورتحال پر قابو پایا۔
عمر ایوب نے کہا کہ سندھ میں بڑی مقدار میں گندم غائب کرنے پر دریافت کیاگیا تو بتایا گیا کہ چوہے کھا گئے، اتنے ہاتھی نما چوہے کہاں ہیں؟ مراد علی شاہ کو حقائق معلوم ہیں لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد وہ باہر آکر جھوٹ بولتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایل این جی کا ریٹ کم ہوا ہے۔ہم بیس گیس بلاکس کے ٹینڈر کھول رہے ہیں ۔
ملک میں بلیک آوٹ کے بارے میں عمر ایوب نے بتایا کہ جب بلیک آؤٹ ہوا رات 11:41 ہوئے ابتدائ وجہ کے مطابق گدو کے ساتھ ایک بریکر پر تین دن سے لگاتار کام ہورہا تھا۔ وہاں کام کرنے والوں نے بریکر کو غلط طریقے سے آپریٹ کیا۔ یہ پہلی بار نہیں بلکہ پاکستان میں یہ آٹھویں بار بلیک آؤٹ ہوا۔جلد بلیک آؤٹ سے نکل گئے۔صبح 8 بجے تک متعدد مقامات تک بجلی آ چکی تھی۔اس حوالے سے کمیٹی اپنا کام کررہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ جنوری دو ہزار بیس میں مہنگائی کی شرح 14 فیصد تھی جنوری دوہزار اکیس میں مہنگائی کی شرح 7اعشاریہ 9 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ سے مہنگائی کی شرح میں کمی لا رہے ہیں۔
ولید اقبال کا کہنا تھا کہ آٹا گھی چینی سمیت چیلنجز موجود ہیں۔پی ڈی ایم مہنگائی کو جو ایجنڈا بنا رہی ہے اس سے ہوا نکل چکی ہے،میں صبح 8 بجے ترامڑی مارکیٹ گیا ہوں بیشتر اشیا ء کی قیمتوں میں کمی آچکی ہے۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایا کہ جب سے نیب قانون بنا ہے پچھلی کسی حکومت نے اس میں اصلاحات لانے کی کوشش نہیں کی ۔پچھلے دس سال میں نیب قانون میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی ۔پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد ایک آرڈینس آیا ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں معیشت چل پڑی ہے ۔بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ آرڈینس سینیٹ کمیٹی میں مرگیا کسی نے اسے ہاتھ نہ لگایا ۔ہم قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل اپوزیشن کے اراکین ،سراج الحق،شیری رحمان،روبینہ خالد اور دیگر نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایشیاء میں مہنگائی میں نمبر ون پوزیشن پر ہے،آج پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے زائد ہے،بھارت اور بھوٹان سے بھی زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے، اس حکومت نے سواۓ مہنگائ کے عوام کوکچھ نہیں کیا۔
ڈپٹی چئیرمین سلیم مانڈوی والانے کہا کہ ان کو نیب ریفرنس کی کاپی مل گئی ہے۔ چاہتا ہوں اوپن ٹرائل ہو۔ نیب ہر آدمی کے اکاونٹ میں گھس جاتا ہے۔بتانا چاہتا ہوں اس ملک میں کسی کا اکاؤنٹ سیف نہیںمیں نیب کے متاثرین کو بلانا چاہتا ہوں ۔حکومت نے الزام لگایا کہ شاید میں نے کوئی ڈیل کی۔میں اپنی جنگ لڑتا رہوں گا پارلیمنٹ، چیمبر اور ہر کلب میں اپنا کیس لڑوں گا۔جتنی انکوائریز کرنی ہیں کریں، جتنے کیسز بنانے ہیں بنائیں ۔اب ہر ہفتے نیب متاثرین کو پارلیمنٹ اور اپنے چیمبر بلاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نیب چیئرمین کو بلانے میں کیا اعتراض ہے؟ کن نیب افسران کی فیملی باہر رہتی ہیں ہم جاننا چاہتے ہیں ؟ ان کا خرچہ کون اٹھاتا ہے۔
سینیٹ اجلاس پیر کی سہہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

