پاکستان

سندھ میں پی پی اور پی ٹی آئی کا انتخابی معرکہ

جنوری 21, 2021

سندھ میں پی پی اور پی ٹی آئی کا انتخابی معرکہ

رپورٹ: عبدالجبارناصر

سندھ میں ڈیڑھ سال بعد ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 221 تھر پارکر میں سخت مقابلے کا امکان ہے ، تحریک انصاف کے مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے مرید نظام الدین راہموں کو ٹکٹ دلاکر پیپلزپارٹی کو سخت پیغام دیا ہے ، جبکہ پیپلزپارٹی نے عام انتخابات 2018ء میں مخدوم شاہ محمود قریشی کو شکست دینے والے پیر نور محمد شاہ جیلانی مرحوم کے فرزند امیر اعلی شاہ کو ٹکٹ دے کر ایک مرتبہ پھر شاہ محمود قریشی کو چیلنج کیا ہے، کورونا وبا کے بعد سندھ میں پہلا انتخابی معرکہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 52 عمرکوٹ 3میں پیپلزپارٹی نے کامیابی بھاری مارجن سے اپنی نام کردی ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے 221 چھاچھرو ننگرپارکر عام انتخابات 2018ء میں وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء مخدوم شاہ محمود قریشی کو شکست دیکر کامیاب ہونے والے پیپلزپارٹی کے پیر نور محمد شاہ جیلانی کے تقریباً ایک ماہ قبل انتقال سے خالی ہوئی ہے۔

انتخابی شیڈول کے مطابق ضمنی انتخاب 21 فروری 2021ء کو ہونا ہے ۔ انتخابی معرکے میں شرکت کے لئے 15 امیدواروں پیپلزپارٹی کےایم این اے پیر نور محمد شاہ جیلانی مرحوم کا بیٹے امیر علی شاہ،بھتیجا پیر امداد علی شاہ،ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو،صادق میمن،پی ٹی آئی کے نظام الدین راہموں،جی ڈی اے کے ارباب عنایت اللہ،دلاور مالکانی، ن لیگ کے ایڈووکیٹ ہیمن بھیل، جمعیت علماء اسلام کے عبدالسلام،تحریک لبیک کے گل حسن اور دیگر نے کاغذات جمع کرائے ہیں ، تاہم اصل مقابلہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے مابین متوقع ہوگا۔

تحریک انصاف نے 20 جنوری 2021ء کو ٹکٹ کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی ٹکٹ غوثیہ جماعت کے روحانی سربراہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے مرید نظام الدین راہموں کو دے دیا ہے ، جبکہ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہناہے کہ مرحوم ایم این اے پیر نور محمد شاہ جیلانی کے فرزند امیر علی شاہ کو پارٹی ٹکٹ دیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہناہے کہ وہ اس نشست پر پیپلزپارٹی کو شکست دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ، تحریک انصاف کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی اس نشست پر دھاندلی سے کامیاب ہوئی ہے ، جبکہ پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ ضمنی انتخاب میں بھاری مارجن سے تحریک انصاف کو شکست دی جائے ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹی کے مابین سندھ میں تقریباً ڈیڑھ سال بعد پہلی بار ون ٹو ون انتخابی معرکے کا امکان ہے۔

اس نشست پر عام انتخابات 2018 ء میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اور غوثیہ جماعت کے سربراہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 72ہزار 884 اور پیپلزپارٹی کے پیر نور محمد شاہ جیلانی کو 80ہزار 47 ووٹ ملے اور یوں پیرنورمحمد شاہ جیلانی نے مخدوم شاہ محمود قریشی کو7ہزار 163 ووٹ سے شکست دی تھی اور ووٹ کاسٹنگ کی شرح 68.68فیصد رہی ۔ عام انتخابات 2018ء میں 2لاکھ 42 ہزار 458 ووٹرز تھے ، جبکہ 21 فروری 2021ء کے ضمنی انتخاب کے لئے 2 لاکھ 81ہزار 900 ووٹرز ہیں۔ ڈھائی سال میں 39ہزار 442ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے اور تحریک انصاف کا دعویٰ نیا ووٹ ان کی جیت کا سبب بنے گا،تاہم یہ خطرہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار کے لئے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی حالیہ انتخابی شکست مسائل پیدا کرسکتی ہے ۔

کورونا وبا کے بعد ملک میں 18 جنوری 2021ء کو سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 52 عمر کوٹ 3 کے ہونے والے پہلے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے)کے مابین سخت مقابلے کی توقع کی جارہی تھی ، مگر انتخاب یک طرفہ ہی رہا اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ جی ڈی اے کے امیدوار سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو 24ہزار 896ووٹ سے شکست ہوئی ۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار اور مرحوم رکن سندھ اسمبلی سید مردان علی شاہ کے فرزند سید امیر علی شاہ 55ہزار 501ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور ڈاکٹر ارباب غلام رحیم 30ہزار 605ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں مخدوم شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت اور پیر صاحب پگار کی حر جماعت نے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے ساتھ اس طرح تعاون نہیں کیا ، جس کی توقع کی جارہی تھی اور اس پر ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور ان کے حامی ناراض ہیں ۔ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم تھرپارکر کے موئثر رہنماء ہیں اور وہ تحریک انصاف سے ناراض رہتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کے لئے شدید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے