حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست واپس لے لی
سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز شریف کی ضمانت کے لیے دائر درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ہے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے حمزہ شہباز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیس میرٹ پر لڑنا چاہتے یا ہارڈشپ کی بنیاد پر؟
حمزہ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ہم ہارڈشپ پر ضمانت مانگ رہے ہیں کیونکہ ایک سال 7 ماہ سے میرا مؤکل جیل میں ہے، اس وقت حالات اور تھے گرفتاری کو ایک سال سے کم عرصہ ہوا تھا، ہارڈشپ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ اس وقت ہارڈشپ کا گراونڈ نہیں بنتا تھا، جب ضمانت کے لیے رجوع کیا تو حمزہ شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر نہیں ہوا تھا، الزام 7 ارب کا تھا ریفرنس 53 کروڑ کا دائر ہوا۔
دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ میں ہارڈشپ کا ذکر ہی نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ کیسے ہارڈشپ کا مسئلہ دیکھ سکتی ہے، جو نقطہ ہائیکورٹ میں نہیں اٹھایا گیا ہم وہ کیسے سنیں، احتساب عدالت کی رپورٹ کے بعد مناسب ہوگا ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔
سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تاڑر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حمزہ شہباز شریف کو قید میں 19 ماہ ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ نے کیس ہائیکورٹ کو ریمانڈ کر دیا ہے،ہائیکورٹ میں نیب کی جانب سے ملزمان کو لمبے عرصے تک قید میں رکھنے پر بحث ہو گی،نیب کی پیش کردہ رپورٹ میں درج ہے کہ حمزہ شہباز کیس میں مزید 10سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں،حمزہ شہباز کیس میں 110 میں سے پانچ گواہان پر جرح کی گئی ہے،حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں ہے،کسی بھی شخص کو بےجا قید میں رکھنے پر انسانی حقوق کا پہلو ہائیکورٹ میں اٹھایا جائے گا،ایک شخص جو عدالت سے تعاون کر رہا ہے،ملک سے باہر بھی نہیں جا رہا تو اس کو قید میں کیوں رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے نیب کیسز میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا کی مثال ہی بنی ہے، بہت عرصے سے معاون خصوصی شہزاد اکبر بھی میڈیا پر آکر کاغذ بھی نہیں لہرا رہے، امید ہے ہائیکورٹ سے حمزہ شہباز کو ضمانت مل جائے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ براڈ شیٹ کا جب معاہدہ ہوا تو عظمت سعید شیخ نیب پراسیکیوٹر تھے، شیخ عظمت کا براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات کرنے کا حق نہیں بنتا، براڈ شیٹ معاملے کے متعلق مسلم لیگ ن کی پالیسی واضح ہے،براڈ شیٹ کیس میں مفادات کا ٹکراو صاف دکھائی دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

