سوشل میڈیا رولز: حکومت نے عدالت میں گھٹنے ٹیک دیے
پاکستان میں حکومت نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائے گئے قواعد پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
پیر کو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقدمے کے درخواست گزاروں اور متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کے بعد نظر ثانی کی جائے گی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں سوشل میڈیا رولز کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران تحریری جواب جمع کرایا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اور 19 اے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، لگتا ہے کہ سوشل میڈیا رولز بناتے ہوئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹشنرز سے مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مکمل پابندی یا کسی پلیٹ فارم کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، کچھ مہلت دی جائے، پی ٹی اے اور سٹیک ہولڈرز سے مل کر رولز میں نظرثانی کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا بہت مثبت رد عمل ہے۔ مشاورت ضروری ہے اور یہ بہت مناسب بات ہے، اگر یہ سوشل میڈیا رولز میں نظرثانی کرنے کو تیار ہیں تو اپنی تجاویز انہیں پیش کریں۔ ہمیں ان پر مکمل اعتماد کرنا چاہئے اور اچھی بات کی توقع کرنی چاہئے۔
وکیل درخواست گزار اسامہ خاور نے کہا کہ ہماری گزارش یہ ہے کہ ہمیں پہلے بھی بلا کر مشورہ کیا گیا مگر بات نہیں مانی گئی، جس پر عدالت نے کہا کہ اس کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیے تھے۔ پاکستان بار کونسل اور پی ایف یو جے اس معاملے میں اہم سٹیک ہولڈر ہیں۔
وکیل کاشف علی ملک نے استدعا کی کہ نئے سوشل میڈیا رولز کی روشنی میں کوئی adverse آرڈر پاس کرنے سے روکا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر ہم کوئی جنرل آرڈر پاس نہیں کریں گے۔ اگر ان رولز کی بنیاد پر کوئی آرڈر پاس ہوا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 26 فروری تک کیلئے ملتوی کر دی۔

