فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے مقدمات سن سکتے ہیں: عالمی عدالت
اسرائیل نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے اس کو تاریخی دن قرار دیا ہے۔
امریکہ نے عالمی عدالت کے اس اکثریتی فیصلے پر اپنے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
فیصلے سے عدالت کے لیے اسرائیل کے ’زیر قبضہ فلسطینی علاقوں‘ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا راستہ ہموار ہو گا۔
عالمی عدالت نے کہا کہ اس نے اکثریت سے فیصلہ کیا ہے کہ عدالت کا دائرہ کار‘ 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں یعنی غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے تک’ پھیل گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ فیصلہ عدالت کے قیام کی دستاویزات کی رو سے قواعد پر مبنی تھا اور اس کا مطلب ریاست یا قانونی حدود کا تعین کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہے۔
عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے اس سے قبل اس بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی خطے میں جنگی جرائم مرتکب کیے جانے کے دعووں کو ‘یقین کرنے کی معقول وجوہات’ ہیں۔

