کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش، دوسرے دن بھی سراغ نہ مل سکا
پاکستان میں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی تلاش کا اتوار کی صبح دوبارہ آغاز کیا گیا تاہم آرمی کے ہیلی کاپٹر شام تک کئی چکر لگانے کے باوجود سراغ لگانے میں ناکام رہے۔
حکام کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث ہیلی کاپٹر نے ساڑھے سات ہزار میٹر بلندی کے گرد چکر کاٹے مگر حد نگاہ کم تھی۔

پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دیگر دو کا جمعے کی شام سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہے اور ان کی تلاش میں شروع کیے گئے ریسکیو مشن کے دوران آرمی ہیلی کاپٹروں نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی ہے تاہم ابھی تک تینوں کوہ پیماؤں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سیون سمٹ ٹریکس کے مینیجر داوا شرپا جو کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں۔
گزشتہ روز اپنے انسٹا گرام پر انہوں نے اطلاع دی کہ آرمی کے ہیلی کاپٹر نے تقریباً 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی اور واپس سکردو لوٹ گئے ہیں۔
ان کے مطابق ’بدقسمتی سے انھیں کوئی سراغ نہیں ملا اور پہاڑ حتیٰ کہ بیس کیمپ میں بھی موسم بہت خراب ہو رہا ہے۔ ہم مزید پیشرفت کے منتظر ہیں لیکن موسم اور ہوا چلنے کی اجازت نہیں دے رہے۔‘
داوا شرپا نے یہ بھی بتایا تھا کہ علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے ہیں اور وہ بہت جلد بیس کیمپ کی جانب بڑھیں گے۔

