جسٹس قاضی فائز کی نظرثانی درخواست، بینچ کی تشکیل کا نیا فیصلہ
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی درخواستیں سننے کے لیے بینچ تشکیل دینے کے مقدمے میں مختصر حکم نامہ جاری کیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بینچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق فیصلہ تحریر کرنے والا جج دستیاب نہ ہو تو حکمنامے سے اتفاق کرنے والا جج بنچ کا حصہ ہوتا ہے۔
پیر کو بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ شدہ مختصر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے درخواستیں نمٹاتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔
جسٹس منظور احمد ملک اختلافی نوٹ لکھیں گے۔ چھ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

