پاکستان

پاکستان میں انسانی حقوق کی توانا آواز خاموش، آئی اے رحمان گزر گئے

اپریل 12, 2021

پاکستان میں انسانی حقوق کی توانا آواز خاموش، آئی اے رحمان گزر گئے

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور سینیئر صحافی آئی اے رحمان انتقال کر گئے۔

ان کی عمر 90 برس تھی۔ آئی اے رحمان کے اہل خانہ کے مطابق وہ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔

آئی اے رحمان یکم ستمبر 1930 کو ہریانہ میں پیدا ہوئے تھے۔

وہ 1989 میں انگریزی زبان کے اخبار پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر بنے۔

وہ پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیش اینڈ ڈیموکریسی کے بانی چیئرمین تھے۔

دو برس قبل ان کا اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے سپریم کورٹ میں صحافت اور انسانی حقوق سے متعلق ایک مقدمے میں یادگار مکالمہ ہوا تھا۔ ذیل میں پڑھیے

سپریم کورٹ سے نامہ نگار اے وحید مراد کے مطابق عدالت نے اینکر شاہد مسعود کے مقدمے میں جہاندیدہ شخصیات اور صحافیوں کو اکھٹا کیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن اور سینیئر صحافی آئی اے رحمان کو روسٹرم پر بلایا گیا تو چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرکے کہاکہ کاش میں آپ کو یہاں چائے پلا سکتا۔

پیرانہ سالی میں کم سننے والے آئی اے رحمان نے پوچھا کہ جناب نے کیا کہا؟ تو چیف جسٹس نے چائے پلانے والی بات دہرائی جس پر ساری زندگی انصاف اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی شخصیت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چائے نہیں انصاف چاہیے۔

آئی اے رحمان نے کہاکہ میں کسی صاحب کے خلاف بات کرتے ہوئے شرماتا ہوں، اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، یہ افسوس کی بات ہے۔ جس طرح جناب نے کہا کہ اگر یہ سچ ثابت ہو تو سرٹیفیکیٹ اور اگر غلط ثابت ہوئی تو سزا دیں۔ آپ نے پوچھا ہے کہ سزا کیا ہوناچاہیے تو جناب وہ آپ کا کام ہے، قانون کے مطابق کریں۔

چیف جسٹس نے کھری کھری سنیں تو کہاکہ دراصل آج کل زیادہ تر قانون ٹی وی پر چلتاہے تو آئی اے رحمان نے کہاکہ میں ٹی وی پر آنے والا آدمی نہیں ہوں۔ اس کے ساتھ ہی بوڑھے مفکر نے عدالتی روسٹرم چھوڑا، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے