رانا ثنااللہ کے دھمکی آمیز بیان پر دہشت گردی کا مقدمہ ہوگا: وزیر اطلاعات
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سرکاری افسران کو دھمکی دینے پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
سنیچر کو شہباز گل کے ہمراہ ڈی ایچ کیو راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کے لئے آیا ہوں، پولیس اور اداروں نے بہادری سے کام کیا،احسن طریقہ سے مسئلہ پر قابو پایا،ملک میں حالات نارمل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا بند کرنا بھی ضروری تھا،رسول اکرم سے عشق کا معاملہ یکساں ہے،جان ومال سے زیادہ انکی حرمت پیاری ہواسکے بغیر مسلمان نہیں، ماضی کراچی میں ایسے واقعات کو دیکھا اس میں را کا ہاتھ تھا، یہاں پر بھی جماعتیں استعمال ہو جاتی ہیں ان کو پتہ نہیں ہوتا۔
فواد چوہدری کے مطابق پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک اور ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی ریاست کمزور نہیں کوئی یہ سمجھنے کی غلطی بھی نہ کرے۔ جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر آتے ہیں،انکو سننا چاہیے۔
تحریک لبیک پر پابندی کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم امہ میں سب سے بڑا دفاعی نظام پاکستان کا ہے،
کسی حکومت نے یا بین الاقوامی ملک نے ہم سے کسی ایکشن کا مطالبہ نہیں کیا یہ ہمارا داخلی فیصلہ تھا، ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے وہی زبان استعمال کی جو اس مذہبی تنظیم نے استعمال کی۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف دہشتگردی کے خلاف ایف ائی آر درج ہو گی کسی کو اجازت نہیں کہ وہ سرکاری افسران اور بیوی بچوں کو دھمکیاں دے، آپ نے سیاست کرنی ہے تو ملکی آئین کی حدود میں رہ کرنی ہے۔
”یہ جو آپ کو نیا نیا الطاف حسین بننے کاشوق آ جاتا ہے،ان وسوسوں کو دل دماغ سے نکالنا ہو گا۔ جاتی عمرا میں کوئی گھر گرانے کا کوئی پروگرام نہیں، یہ پراسس 6 یا 8 ماہ پہلےشروع ہوا تھا۔ کھوکھر برادران نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا اور گھر بنا لیا،دانیال عزیز کا نام بھی شامل تھے۔“
فواد چوہدری نے کہا کہ جاتی عمرہ کے اندر سرکاری زمین بوڑھی عورت کے نام منتقل کی گئی اور بعد میں نواز شریف کی والدہ کے نام منتقل کی گئی۔ یہ نہیں ہو سکتا آپ سرکاری زمین پر گھر بنائیں اور کوئی قانونی کارروائی بھی نہ ہو۔
”بدقسمتی ہے کہ آپ ہماری سیاسی تحریک کو فتنہ انگیز معاملہ سے جوڑ دیا۔“
وزیر اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین کا معاملہ پہلی دفعہ نہیں ہوا،ڈاکٹر بار اعوان پر الزام لگا وہ کلیئر ہوئے واپس آئے،علیم خان،سبطین خان پر کلئیر ہوئے واپس آیے،جہانگیر ترین نے عدالت میں ثابت کرنا یے،ان سے حکومت کا کوئی معاملہ نہیں۔
حکومت کو کام تحقیقات کرنا ہے،اس کے بعد عدالت کا کام ہے
کسی کو قانون سے ہٹ کر ڈیل نہیں کیا جانا چاہیئے،ٹی ایل ختم ہو گئی،کالعدم تنظیم سے خو معاہدے تھے وہ بھی ختم ہو گئے
دو دن قبل ایک ارب روپے کی چینی یوٹیلیٹی سٹور سے فروخت ہوئی۔
تیس سال حکومت کرنے والوں سے سوال کرنا چاہیے کہ اداروں کا کیا حال کیا گیا، تباہ و برباد کر کے چلے گئے۔

