لاہور میں ہلاکتوں کے بعد حالات کشیدہ، 12 پولیس اہلکار یرغمال
لاہور میں کالعدم تحریک لبیک کے مرکزی دفتر کے قریب مبینہ طور پر پولیس آپریشن کے دوران فائرنگ سے کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان اور اہلسنت کے مفتی منیب الرحمان نے لبیک کے کارکنوں پر پولیس تشدد اور فائرنگ کی مذمت کی اور حکومت کو سنگین نتائج سے آگاہ کیا ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ آپریشن نہیں کیا گیا بلکہ مسلح جتھے اور شرپسندوں نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا اور ڈی ایس پی سمیت 12 اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔
کالعدم تنظیم کے ہمدرد افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دو کارکن آپریشن کے دوران پولیس کی فائرنگ سے مارے جا چکے ہیں تاہم آزاد ذرائع یا حکام نے تصدیق نہیں کی۔
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) April 18, 2021
ادھر پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی صبح پٹرول بموں اور تیزاب کی بوتلوں سے لیس متشدد جتھوں نے نواں کوٹ پولیس سٹیشن پر حملہ کیا جہاں رینجرز اور پولیس اہلکار محبوس ہو گئے اور تقریباً 6 پولیس والے زخمی ہوگئے۔
پولیس کے بیان کے مطابق متشدد جتھے DSP نواں کوٹ سمیت 12 پولیس والوں اسلحے کے زور پر اغواء کر کے اپنے مرکز میں لے گئے جہاں حملے کے لیے 50 ہزار لٹر کا آئل ٹینکر بھی رکھا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے کوئی آپریشن پلان یا شروع نہیں کیا گیا اور جوابی کارروائی صرف سیلف ڈیفنس اور مغوی پولیس والوں کو بچانے کی لیے کی گئی۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ان جتھوں کے ہاتھوں 6 پولیس اہلکار ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

