آئی ایم ایف کی شرائط پر چلتے رہے تو معیشت نہیں چل سکتی: پاکستان
پاکستان کے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرضہ انتہائی سخت شرائط پر دیاہے اور اگر ہم ان شرائط پر چلتے رہے تو معیشت نہیں چل سکے گی۔
‘ہمارے پاس ٹیرف میں اضافے کی گنجائش نہیں ہے، ٹیرف پر آئی ایم ایف ٹیم سےبات چیت جاری ہے.’
وزیرخزانہ بنائے جانے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کر کے شرائط کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو 2008 میں آسان شرائط پر آئی ایم ایف نے قرض دیا تھا کیونکہ اس وقت دنیا دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے ہمارے ساتھ تھی لیکن اس بار قرض دیتے وقت پیشگی کڑی شرائط عائد کی گئی ہیں کیونکہ علاقائی صورتحال پاکستان کے حق میں نہیں۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے اس بار قرض دیتے وقت سیاسی نوعیت کی شرائط عائد کی گئیں.
اسلام آباد میں معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا حکومت نے اقتدار سنبھالا تو تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، آئی ایم ایف نے موجودہ پروگرام میں سخت شرائط رکھیں جس کے سیاسی اثرات ہوئے، ہم پروگرام سے نکل نہیں رہے لیکن سہولیات کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔ آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ ہم ٹیکس نیٹ بڑھائیں گے۔ صنعت، زراعت اور تعمیرات کے شعبوں پر توجہ دی جائے گی سی پیک اور برآمدی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہوگی۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ملک میں اتنے پاور پلانٹس لگادئیے ہیں کہ یہ شعبہ گوریلا بن گیا ہے، ہمارے لئے کیپسٹی چارجز ادا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ وزیراعظم ٹیرف بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا اس وقت معیشت کو کورونا سے خطرہ ہے ورنہ ہماری معیشت کی بحالی شروع ہوچکی ہے، جی ڈی پی گروتھ کو کم از کم 5 فیصد پر رکھنا ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا آئی ٹی کے شعبے میں ترقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ آئی ٹی کا شعبے کی گروتھ 65 فیصد سے 100 فیصد پر لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا آئندہ بجٹ میں ٹیکس گزاروں کو ہراسگی سے بچنے کیلئے اقدامات کریں گے۔

